کچھ خبر ہوتی نہیں مےکش کو اپنی ذات کی

کچھ خبر ہوتی نہیں مےکش کو اپنی ذات کی
دن گزارا کس کے پہلو میں کہاں پر رات کی
اُس نے میرا دل چھپا کراپنے دل میں رکھ لیا
یوں حفاظت ہو گئی اک دن حسیں سوغات کی
آپ کے دل پر جو گزری وارداتِ عشق تھی
مجھ کو بھی معلوم ہے سب,آپ نے جو بات کی
اُس کا چہرہ کِھل چکا تھا صرف میری جیت پر
مسکرا کر بات کی جب اُس نے اپنی مات کی
تیری قربت کا نشہ پھر جسم و جاں پر چھا گیا
جب بھی یاد آئی مجھے گزری ہوئی برسات کی
آ گیا تھا شہر کے لڑکے کا دل بے ساختہ
دو گھڑی جب گاؤں کی لڑکی نے ہنس کر بات کی
اُس کی فیاضی کے چرچے چارسُو ہونے لگے
حسن کے جلووں سے جب عشاق میں خیرات کی
لوگ ہنستے ہی رہے اک دوسرے کے سامنے
کوئی بھی جب کہہ نہ پایا داستاں حالات کی
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے