کچھ خاک سے ہے کام کچھ اس خاک داں سے ہے

کچھ خاک سے ہے کام کچھ اس خاک داں سے ہے
جانا ہے دور اور گزرنا یہاں سے ہے
دل اپنی رائیگانی سے زندہ ہے اب تلک
آباد یہ جہاں بھی غبار جہاں سے ہے
بس خاک پڑ گئی ہے بدن پر زمین کی
ورنہ مشابہت تو مری آسماں سے ہے
دل بھی یہی ہے وقت بھی منظر بھی نیند بھی
جانا کہاں ہے خواب میں جانا کہاں سے ہے
اک داستاں قدیم ہے اک داستاں دراز
ہے شام جس کا نام وہ کس داستاں سے ہے
وابستہ میز پوش کے پھولوں کی زندگی
مہمان سے ہے میز سے ہے میزباں سے ہے
ذوالفقار عادل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے