کچھ بدلا ؟

کچھ بدلا ؟

کتے اور ہندوستانی اندر نہیں آسکتے !برطانیہ کی غلامی کے دنوں میں یہ نوٹس انگریز لگاکر ہندوستانیوں سے ( آج کے انڈین ، پاکستانی اور بنگالی ) اپنی نفرت اور حقارت کا اظہارکرتے تھے ۔ اور انکی یہ کھلم کھلا نفرت غلاموں کے دلوں میں جذبہء بغاوت بھڑکاتی تھی ۔ غلام ملک کے یہ شہری جب کینڈا اور سان فارنسسکو پہنچے تو وہاں بھی ان کے ساتھ نسلی تعصب کا برتاؤ کیا گیا ۔ اس رویے کے خلاف غدر اخبار اور پھر غدر تحریک چلی ۔سنگا پور میں آباد ایک ہندوستانی بابا گردیت سنگھ نے ایک بحری جہاز کاما گاٹا مارو کرایے پر لیا اور سنگا پور اور آس پاس کے علاقوں میں آباد ہندوستانیوں کو لے کر وینکور کینڈا پہنچا ۔وہاں کی انگریز سرکار نے جہاز کو داخل نہیں ہونے دیا۔دو ہفتے تک مذاکرات ہوتے رہے ، ناکامی کی صورت وہ جہاز 29ستمبر1914کو کلکتہ پہنچا ۔اس دوران برطانوی خفیہ پولیس نے اس کے مسافروں کو خطرناک انقلابی قرار دیا ۔ان مسافروں نے جو پہلے ہی اتنی ذلت اٹھا کر آئے تھے کلکتہ کی سڑکوں پر اس رویے کے خلاف جلوس نکالا اور ہندوستان ہی کی سر زمین پر ہندوستانیوں پر فائرنگ کی گئی اور اٹھارہ مسافر مارے گئے ۔ اس ہولناک واقعے کے بعدکرتار سنگھ بھی اور کئی لوگوں کے ساتھ غدر پارٹی میں کام کرنے کے لئے سان فرانسسکو چلا گیا ۔ اور جب وہ واپس آیا تو اسے “لاہور سازش کیس “کے تحت گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا ۔کرتار سنگھ کا عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے بیان تھا “اس کی پارٹی انگریز حکومت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہتی ہے کیونکہ یہ سرکار تشدد اور ناانصافی پر قائم ہے ۔اس نے لندن میں پھانسی کی سزا پانے والے مدن لال دھینگڑا کا بیان دہرایا کہ
“جو ملک غیر ملکی سنگنیوں کی نوک سے دبا ہوا ہے ، وہ ہمیشہ جنگ کی حالت میں ہوتا ہے “۔
کرتار سنگھ کو بیان بدلنے کے لئے کہا گیا لیکن اس نے انکار کر دیا ۔اسے 16 نومبر 1915کو صرف 19سال کی عمر میں پھانسی دے دی گئی اس نے پھانسی پر جانے سے پہلے کہا تھا کہ :
“میری آرزوصرف اتنی ہے کہ میرا ملک آزاد ہوجائے ۔میں نے جو کچھ بھی کیا ،اس کا مقصد یہی تھا ۔ میں نے کبھی کسی شخص، ملک ،مذہب یا طبقے سے متعلق نفرت کا اظہار نہیں کیا ۔میری صرف ایک تمنا ہے ۔۔۔۔آزادی ۔
یہ آرزو تنگ دلی اور تنگ نظری سے بہت اونچی تھی ۔ ا سکا نہ کوئی مذہب تھا نہ عقیدہ نہ فرقہ اور یہ کسی بھی سرمایہ دار اور دکاندار کی وقتی مصالحت سے مبرا ،مکمل بہادری اور بے غرضی کا نمونہ تھی ۔
آج جب شیخ رشید کا بیان پڑھا کہ مجھے پاکستان ائیر لائنیز سے اتار لیا گیا ہے،جب وہ کینڈا جانے کے لئے اس میں سوار ہوئے تھے اور یہ آذاد پاکستان کے ائیر پورٹ پر ہوا اور وجہ پوچھنے پر امریکہ کا حکم نامہ دکھایا گیا جس میں وہ شخص امریکی سپیس پر سے نہیں اڑ سکتا ۔۔پتہ نہیں کیوں “ہندوستانی اور کتوں کا داخلہ ممنوع والا “کئی دہائیوں پرانا نوٹس یاد آگیا ۔ کرتار سنگھ نے جس غیر ملکی سنگنی سے اپنے ہم وطنوں کو بچانے کے لئے پھانسی کا پھندا گلے میں ڈال لیا تھا ۔ وہ سنگنی آج بھی اپنی گردن پر ہی محسوس ہوئی ۔ کاماگاٹا مارو آج بھی شائد وہیں کھڑا اپنے حقوق کے لئے مذاکرات کر رہا ہے ۔
1925میں کاکوری ریلوے سٹیشن پر انقلابیوں نے روکا ، سرکاری تجوری توڑی اور اس میں سے 4679روپے نکالے ۔وسیع پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں اور بہت سے انقلابی پکڑے گئے ۔29پر مقدمے درج ہوئے ۔ایک سال مقدمہ بلکہ تماشا چلا اور چار نوجوانوں ،رام پرساد بسمل ،اشفاق اللہ خان ،روشن سنگھ اور راجندر ناتھ کو پھانسی کی سزا دی گئی ۔اشفاق خان کو فیض آباد جیل میں 18دسمبر 1927پھانسی دی گئی تو اس کی گردن پر قران پاک بندھا ہواتھا ۔وہ شاعر بھی تھا پھانسی سے پہلے اس نے یہ شعر پڑھا :
کچھ آرزو نہیں ہے،ہے آرزو تو یہ
رکھ دے کوئی ذرا سی خاکِ وطن کفن میں
پتہ نہیں کون سا وطن تھا جس کے لئے یہ سب نوجوان انقلابی جان سے گئے ۔ان لوگوں نے اپنے بدن کی موم بتی بنا لی تھی اور اسے پل پل جلاتے تھے ۔ مساوی حقوق اور سر اٹھا کر جینے کی بات کی اور موت کو بھی گلے لگانے سے گریز نہ کیا ۔ کیسی تاریک راہیں تھیں جن میں یہ سب لوگ بغیر ذات پات کا جھگڑا کھڑا کئے مارے گئے ۔۔ ایسی تاریک راہیں جو ان کی جان کی قربانیوں سے بھی روشن نہ ہوسکیں ۔
اشفاق اللہ خان آج ہوتا تو شائد کشمیری مسلمان دہشت گرد ہوتا ۔ جو اس کے آذاد ہندوستان میں پاکستان کی جیت پر خوشی سے بھنگڑا ڈالنے پر یو نیورسٹی سے نکالا جا چکا ہوتا ۔ جو پھر سڑکوں پر انڈین پولیس اور آرمی کے ہاتھوں اسی طرح پٹ رہا ہوتا ۔جیسے سائمن کمیشن کے خلاف احتجاج کرنے پر لالہ لاجپت رائے کو انگریزایس پی نے لاٹھیاں مار مار کے مار دیا تھا۔ 1928کو نہ سہی آج کی کسی بھی تاریخ میں کسی بھی مقام پر چاہے وہ پاکستان ہو ، انڈیا ہو یا بنگلہ دیش ہو ۔۔عام آدمی کی حقوق کی بات کرنے پر کہیں بھی ایسی موت پا سکتا ہے ۔
جیتندر ناتھ داس کی حالت بگڑتی جارہی تھی ۔اس کے سب انقلابی ساتھی جیل میں اس عظیم بھوک ہڑتال کے بدلے اپنے ساتھی کی اس حالت کو دیکھ کر پریشان تھے ۔بھگت سنگھ جس نے خود بھی پھانسی پر لٹک جانا تھا مگر یہ سب لوگ ،یہ سب جنگی قیدی ( برطانوی حکومت کے مطابق ) قیدیوں سے بعدتر سلوک کی بنا پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے ۔ یہ وہ منفرد انقلابی تھے جنہوں نے اپنی جان پر تشدد کیا اور اپنی ہی جان کے بدلے انصاف اور معاشی استحصال کے خلاف جنگ لڑی ۔ سامراج کی جیل ہو یا عدالت انہوں نے ان جگہوں کو اپناپلیٹ فارم بنا کر عام آدمی کے لئے آواز اٹھائی ۔ جس اسمبلی میں انہوں نے “سامراج کے بہرے کانوں” کو اپنی آواز سنانے کے لئے بم کا دھماکہ کیا ( اس احتیاط سے کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو اور خود ہی گرفتاری پیش کی ) ۔اسی دلی مرکزی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے محمد علی جناح نے کہا تھا “بھوک ہڑتال سے مرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ۔آپ آزما کر دیکھئے ۔آپ کو معلوم ہوجائے گا ۔بھوک ہڑتالی کا بھی ضمیر ہے ۔وہ اس ضمیر سے متاثر ہوتا ہے اور اپنے مقصد کے حق بجانب ہونے پر اعتبار کرتا ہے “۔
ایم آر جیکار جتندر کے آخری لمحوں کو یاد کرتے ہوئے لکھتا ہے ۔
“وہ آہستہ آہستہ مرا ۔لمحہ بہ لمحہ ۔خوراک کی کمی سے ایک ہاتھ مفلوج ہوا ۔پھر کھانا نہ ملنے سے دوسرا ہاتھ بے کار ہوگیا ۔ایک پیر مفلوج ہوا ،پھر دوسرا پیر ۔اور قدرت کا آخری قیمتی تحفہ۔۔آنکھوں کی روشنی چلی گئی ۔ان آنکھوں کی چمک دھیمے دھیمے بجھی۔گلوٹائن کی اچانک اور رحم کرنے والی موت کی طرح نہیں ،بلکہ آہستہ آہستہ جیسے فطرت تعمیر و تخریب کرتی ہے “۔
جیتندر ناتھ داس کی موت ہند کی جنگِ آزادی میں ایک انقلابی بھوک ہڑتالی کی موت تھی ۔باسٹھ دن کی بھوک ہڑتال کے بعد جب داس ختم ہوگیا اور اس کی لاش لاہور جیل سے باہر لائی گئی تو جیل کے دروازے پر ہزاروں لوگ اپنے شہید بیٹے کو آخری سلام کرنے موجود تھے ۔گیتوں اور انقلابیوں کی سرزمین بنگال کا یہ بیٹا جن حقوق کی جنگ برطانوی سامراج کے ہاتھوں کرتا مارا گیا اور اس امید سے کہ آنے والی نسلیں وہ تعفن ، وہ گھٹن وہ نا انصافی نہ دیکھ سکیں ۔۔آج جینتدر ڈھاکہ سٹیڈیم میں پاکستان کا جھنڈا ہاتھ میں تھامے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ یا آسٹریلیا کے خلاف buck upکر رہا ہوتا تو اس بنگلہ دیش کی حکومت کا حکم نامہ اس کے ہاتھ میں بھی پہنچ گیا ہوتا کہ کسی بھی اور ملک کا جھنڈا بنگلہ دیش کے سٹیڈیم میں لہرانا منع ہے ۔
23اپریل1930کوقصہ خوانی بازار میں بے گناہوں پر گولی چلانے والے انگریز کرنل کو جب ایک نوجوان حبیب نور نے اس کی کوٹھی پر جا کر اسے گولی کا نشانہ بنایا ،وہیں پکڑا گیا ،اسی دن مقدمہ چلا اور اسی شام اسے چونے کی ایک بھٹی میں گرم پانی میں ڈال کر بھسم کر دیا گیا ۔بھگت سنگھ نے اپنی سکھ دیو اور راج گرو کی پھانسی کے لئے صرف یہ التجا کی تھی کہ ہمیں پھانسی نہ دی جائے بلکہ ہم جنگی قیدی ہیں ہمیں گولی سے اڑایا جائے ۔ یہ درخواست تب بھی قبول نہیں ہوئی تھی ۔اور یہ التجا آج بھی قبول نہیں ہورہی ۔اس خطے کے غریب عوام کو سہل اور اچانک موت نہیں دی جارہی بلکہ ان کی گردنوں میں غربت ، مہنگائی اور ناانصافی کا پھندا تنگ کیا جارہا ہے ۔

روبینہ فیصل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے