کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں

کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں
اے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیں
بے اشکِ لالہ گوں بھی میں بے آبرو نہیں
آنسو میں رنگ کیا ہو کہ دل میں لہو نہیں
پھر بھی کہو گے چھیڑنے کی اپنی خو نہیں
عطرِ سہاگ ملتے ہو وہ جس میں بو نہیں
یہ کیا کہا کہ بکتے ہو کیوں آپ ہی آپ تم
اے ہم نشیں مگر وہ مرے روبرو نہیں
بے طاقتی نے کام سے یہ کھو دیا کہ بس
دل گم ہوا ہے اور سرِ جستجو نہیں
محفل میں لحظہ لحظہ وہ چشمِ ستیزہ خو
لڑتی ہیں کیوں اگر سرِ صلحِ عدو نہیں
کیا جوشِ انتظار میں ہر سمت دوڑ ہے
بدنامیوں سے ہائے گزر ایک سو نہیں
دی کس نے اشکِ سرمہ سے تیغِ مژہ کو آب
شورِ فغاں کو فکرِ خراشِ گلو نہیں
مصطفیٰ خان شیفتہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے