کچھ ایسے ڈھب سے ہنر آزمایا کرتا تھا

کچھ ایسے ڈھب سے ہنر آزمایا کرتا تھا
میں اُس کا جھوٹ بھی سچ کر دکھایا کرتا تھا
اور اب تو میں بھی سرِ راہ پھینک دیتا ہوں
کبھی میں پھول ندی میں بہایا کرتا تھا
کہیں میں دیر سے پہنچوں تو یاد آتا ہے
کہیں میں وقت سے پہلے بھی جایا کرتا تھا
مرے وجود میں جب بھی گھٹن سی ہوتی تھی
میں گھر کی چھت پہ کبوتر اڑایا کرتا تھا
بس اتنا دخل تھا میرا خدا کے کاموں میں
میں مرتے لوگوں کی جانیں بچایا کرتا تھا
یہ خود مجھے بھی بڑی دیر میں ہوا معلوم
کہ کوئی دکھ مجھے اندر سے کھایا کرتا تھا
میں اس کے عشق میں پاگل تھا پھر بھی دل میرا
مرے خلوص پہ تہمت لگایا کرتا تھا
لٹا کے نقدِ دل و جاں حسین چہروں پر
میں اپنی عمر کی قیمت چکایا کرتا تھا
کچھ اس لیے بھی زیادہ تھی روشنی میری
کہ میں چراغ نہیں دل جلایا کرتا تھا
یہ میں جو ہاتھ ہلاتا تھا راہ چلتے ہوئے
میں شہرِ خواب کے نقشے بنایا کرتا تھا
ہمارے دل میں بھی اک جوئے آب تھی جس میں
کسی کی یاد کا پنچھی نہایا کرتا تھا
کبیؔر اتنا اندھیرا تھا میرے کمرے میں
میں خواب میں بھی دریچے بنایا کرتا تھا
ڈاکٹر کبیر اطہر​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے