خونی لہریں،محبت اور طالبان

رات کی دیوی زلفیں کھولے بے حس پتھروں اور تاحدِنظر بکھرے سنگریزوں کو گود میں سمیٹے سو رہی تھی۔ دور کی پہاڑی چوٹیاں دھندلی دھندلی دکھائی دیتی تھیں۔ دیوی پُرسکون تھی۔ دیوی کا سکون مطلق ہر چیز سے چھو کر پوری کائنات پر سکتہ طاری کیے ہوئے تھا۔ تاریکی کے نیلمی غبار میں ایسی ہیبت پوشیدہ تھی کہ ہر چیز سہمی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ اس سکتے کو توڑنے کے لیے دریائے ہرات کی سیہ تاب موجیں پتھروں کے ساتھ ٹکرانے کو مچل رہی تھیں۔

افق سے ابھرتے طبق روپہری نے حریم خاکی کے طواف کے لیے جامہءِ احرام زیب تن کر لیا تو دیوی نے کالی زلفیں سمیٹنی شروع کر دیں۔ ہلکی ہلکی چاندنی نے تبسم بکھیرا تو ندی کی ترائیوں میں کہر کا دھند چمک اٹھا۔ دریا کی موجوں نے انگڑائی لی۔ چاند جوبن پر آیا تو عالم خوابیدہ میں بھی حرکت پیدا ہوئی۔ چاند کی کرنیں لہروں سے ٹکرا کر سطح آب پر چاندی بکھیر رہی تھیں۔ ایسا لگتا تھا کہ نیند سے مضمحل رات ڈھل چکی ہے۔ کائنات بیدار ہونے والی ہے۔ اور اب سحر انگڑائیاں لینا شروع کر دے گی۔ چاند سبک خرامی سے چلتا ہوا نصف آسمان تک پہنچ کر فضا میں معلق ہو گیا تھا۔

سکول کے پچھواڑے میں واقع بڑی سی کوٹھی مدہوش اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ کسی کمرے، کسی کھڑکی، کسی روزن دیوار سے زندگی کے آثار نظر نہیں آتے تھے۔ پورا مکان بیوہ کی مانگ کی طرح ویران تھا۔ یہ مکان ماحول کی اداسی کو مزید بڑھا رہا تھا۔ پھراس سکتے کو توڑتے ہوئے اس کوٹھی کا کواڑ کھلا اور بوڑھی پرنسپل نیم خوابیدہ چال چلتی برآمد ہوئی۔ سفید اوڑھنی اوڑھے، سفید بال کھولے، وہ کوئی آسمانی مخلوق لگ رہی تھی۔ شفاف چاندنی میں اس کا رخ زیبا صاف نظر آ رہا تھا۔ سکوت شب کے فسوں میں مست، بند آنکھوں کے ساتھ، گردن کو خفیف سا خم دیئے، پرپیچ و خم راستوں پر، بصد وقار و سکوں، نرم گام ہو کر دریا کی طرف جا رہی تھی۔ کائنات حرکت کرنا بھول گئی۔ صرف ایک مضطرب سایہ تھا جو اس کے پیچھے لرزاں چلا آ رہا تھا۔ تنہائی، ویرانی، ارتعاش سکوت اور بادِسحر کے سوا کوئی دوسری چیز اس کے راستے میں حائل نہیں تھی۔ پہاڑی روکوں کو پامال کرتی، منفرد جمال عورت دریا کے کنارے پہنچ کر ایک دھلی ہوئی چٹان پر بیٹھ گئی۔ ڈھلتی ہوئی رات کی اس ساعت، ایسی خطرناک جگہ پر، جہاں ذرا سی غلطی انسان کو ٹھنڈی موجوں کے حوالے کر کے دریا برد کر دے، تن تنہا اس کی موجودگی اچھنبے کی بات نہیں تھی۔ سال ہا سال سے کرشن پکش کی چاندنی راتوں میں اس کا ڈیرا یہی چٹان رہی تھی۔ اسی جگہ وہ نماز شب ادا کرتی۔ جب پہاڑیوں کے اس پار طلوع سحر جھلکتی دکھائی دیتی تو اس وقت بھی وہ سجدہ ریز ہی نظر آتی۔ افق پر آتشیں خط دکھائی دینے لگتا اوردریا کا پانی خون رنگ سرخی اختیار کر لیتا تو وہ واپس چل پڑتی۔

یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد اس نےعلاقے کے اس مشہور و معروف ‘لیسه عالی دخترانه، ملا خیل’ کی بنا ڈالی تھی۔ سکول کو خاندان کے حریف قبیلے کے نام سے منسوب کیا تھا۔ جب روسی فوجیں اس گاؤں میں داخل ہوئیں تو دونوں قبائل نے زبردست مزاحمت کی تھی۔ زیادہ تر شہادتیں اس قبیلے کے جوانوں کی ہوئیں۔ بہت سے نوجوان اٹھا بھی لیے گئے۔ کچھ امن ہوا تو اس نے یہ کام شروع کردیا۔ اس کے جذبے کو بہت سراہا گیا اور دونوں قبائل میں دیرینہ دشمنی ختم ہو گئی۔ اس سکول کی خدمت میں ہی اس کے بال پک گئے تھے۔ اب وہ پچاس سال کی بوڑھی عورت تھی۔ سکول میں ملازم اور معلمات زیادہ تر شہدا کی بیوگان تھیں۔ شروع میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین اکثر مل جاتی تھیں۔ اس کی کوشش رہی تھی کہ کسی معلمہ کو سکول سے جانے نہ دے۔ پڑھی لکھی عورتوں کی کمی کے باوجود اس کے پاس اب تجربہ کار سٹاف موجود تھا۔

آج سکول آئی تو طالبان کا ایک خط موصول ہوا۔ پڑھ کر بہت پریشان ہوئی۔ پہلے بھی اسے دھمکیاں موصول ہو چکی تھیں۔ وہ کسی صورت میں سکول بند کرنے کو تیار نہ تھی۔ علاقے میں اس کا اثر و رسوخ دیکھ کر طالبان بھی محتاط تھے۔ معاون پرنسپل پلوشہ کو اس نے شام کو اپنے گھر ہی بلا لیا۔

دونوں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں۔

“ان کی یہ بات تو مانی جا سکتی ہے کہ عربی لازمی مضون کے طور پر پڑھائی جائے۔ لیکن فارسی شاعری پڑھانے پر پابندی کسی صورت قبول نہیں۔” اس نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔

“عرب و عجم کی لڑائی اب ہمارے سکولوں میں بھی شروع ہو جائے گی۔ ان عربوں نے ہمارے ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے۔ یہ خود کش حملے، لاشوں کی بے حرمتی، سر کاٹنا، مثلہ کرنا، ہمارے ملک میں عرب ہی لائے ہیں۔ ہمارے ہاں تو دشمن کو بھی گلے لگانے کا رواج رہا ہے۔ تھوڑی سی نرمی جو ہمارے معاشرہ میں اب بھی باقی ہے یہ فارسی شعر و ادب کی وجہ سے ہے۔”

جواں سال پلوشہ غور سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔ وہ ایک شہید کی بیوہ تھی۔

“پرنسپل صاحبہ! طالبان کو سب سے زیادہ اعتراض عشقیہ شاعری پرہے۔ ہم بیوہ عورتوں کے لیے ایسےاشعارکی تشریح کرنا بھی خاصا مشکل ہے۔”

“اس میں مشکل کیا ہے؟” پرنسپل نے پوچھا۔

پلوشہ کچھ دیر سوچتی رہی “میں تو مجاز کی بجائے عشق حقیقی کی طرف بات لے جاتی ہوں اور آپ کی مثال دیتی ہوں۔ لیکن بعض اشعار تو صرف عورت اور مرد کے عشق کو ہی بیان کرتے ہیں۔ بالی عمر کی لڑکیوں کو یہ سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے۔”

بوڑھی پرنسپل کہنے لگی “اس عمر میں ہی تو پیار و محبت سکھایا جاتا ہے۔ غلط اور صحیح کی تمیز اسی سے ہوتی ہے۔ جس کو تم مجاز کہتی ہو وہی تو حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جس کے بغیر گذارا نہیں۔ مجاز تو وہ ہے جو تخیلات میں گھڑا جاتا ہے۔ خواہش خیال کا بیج ہے۔ خیال شکل بن کرابھرتا ہے۔ انسان اپنی خواہشات اور ضروریات کے مطابق پیکر بناتا ہے۔ یہ بے وجود شبیہ زیادہ کشش رکھتی ہے۔ پھر انسان اپنے ہی خیالات کاغلام بن جاتا ہے ۔ یہ کاریگر ایک خیال گھڑتا ہے۔ تراش خراش کر کے اسے انتہائی خوبصورت بناتا ہے اور صناع اپنی صنعت کا مطیع ہو جاتا ہے۔ خالق اپنی مخلوق کی پرستش شروع کر دیتا ہے۔”

پلوشہ یک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔ بوڑھی پرنسپل خاموش ہوئی تو کہنے لگی“آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں لیکن بعض اشعار تو صرف عورت اور مرد کے ناپاک اور گندے تعلقات کو عشق کا نام دیتے ہیں۔ وہ زیادہ مشکل پیدا کرتے ہیں۔”

“ناپاک اورگندے؟ تم کیسی باتیں کر رہی ہو؟ عشق ایک ہی ہے اسے جو بھی نام دے لو۔ وہی حقیقی ہے۔ وہ پاک بھی ہے۔ جسے تم ناپاک اورگندہ کہہ رہی ہو وہی سچ ہے، گند نہیں ہے۔ یہ ناپاکی، پاک زندگی کا استعارہ ہے۔ زن، حیض، پلیدی اور ملاپ میں ہی نوع انسانی کی بقا ہے۔ اس وجہ سے نسل انسانی قائم ہے۔ وہ امر ہے۔”

“آپ کا عشق تو سکول کے ساتھ ہے۔ وہی آپ کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ نمازی اور پرہیزگار بھی ہیں۔ ایک خدا کو ماننے والی۔”

“خدائے واحد کو ماننا تو میرا عقیدہ ہے۔ یہی وحدانیت تو عشق میں بھی شراکت کو قبول کرنے نہیں دیتی۔ آج تم نے مجھے مجبور کر دیا کہ اس راز سے پردہ اٹھا دوں جو مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔

“ہاں! میں نے بھی عشق کیا۔” وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ شاید سوچت رہی تھی کہ کہاں سے شروع کروں؟ اس کا چہرہ غمگین خوشی سے منور تھا۔ آنکھیں حزنِ مجسم، جن میں آنسو چھن چھنا رہے تھے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ سفید بالوں سے ڈھکا مغرور سر پہاڑیوں کی طرح بلند تھا۔ ایسی برفیلی پہاڑیاں جن پر ہمیشہ بادل منڈلاتے رہتے ہیں۔ پھر اس نے آہستہ آہستہ بولنا شروع کیا۔

‘غزین ملا خیل’ اس کا نام تھا۔ میرے دشمن قبیلے کے سردار کا بیٹا۔ میرے ساتھ کابل یونیورسٹی میں پڑھا کرتا تھا۔ انتہائی خوبصورت نوجوان، جوبن کی بہار، آنکھوں کا خمار، چہرے کا نکھار، چوڑے شانے، پتلی گردن اورسینے کا ابھار، وہ مردانہ حسن کا شاہکار تھا۔ وہ اس دانشکدہ کے طبقہ اناث کا مشترکہ خواب تھا۔ پتا بھی نہ چلا کہ کب یہ دشمنی پیار میں بدل گئی۔ ملک کے حالات خراب ہوئے تو میں واپس اپنے گاؤں آ گئی۔ ایک لمبے عرصہ تک اس سے کوئی ملاقات نہ ہوئی۔

وہ اندھیرے پاکھ کی ایک رات تھی. لیلۃ القدر۔ میرے خاندان کے لوگ کہتے تھے کہ مجھے سوتے میں چلنے کی عادت تھی۔ شاید سچ ہی کہتے ہوں۔ میں تو اب بھی ان راتوں میں وہاں پہنچ جاتی ہوں۔ اس ندی کنارے۔ کافی رات بیت چکی تھی۔ نہ جانے کب اندھیرے مٹاتا چاند طلوع ہو کر طشت فلک کے تاروں کے جھرمٹ میں روپ بکھیرنے لگا۔ شفاف چاندنی تابدار بادل کی طرح پوری وادی پرچھا گئی تھی۔ آنکھ کھلی تو دیکھا وہ سامنےکھڑا تھا۔ میری مضمحل رگوں میں موج حیات دوڑ گئی۔ میری نبضوں کے اندر بہنے والا خون رقص کناں ہو گیا۔ میں بھاگ کر اس کے ساتھ لپٹ گئی۔ ایسا تو میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ ہوش آئی تو خود کو اس سے علیحدہ کر لیا۔ وہ میرا بازو تھام کر دریا کنارے اوپر کی طرف چل پڑا۔ دور، وہاں تک، جہاں اس کا دہانہ تنگ ہو جاتا ہے۔ دریا مچل رہا تھا۔ وہ کسی ڈر خوف کے بغیر آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ پھر ہم ایک مسطح چٹان پر پہنچ گئے۔ دریا کی موجیں اس کے ساتھ اپنا سر پٹخ رہی تھیں۔ اچھلتے ہوئے پانی کی پھوار اسے دھو رہی تھی۔ ہم ایک پتھر کے ساتھ ٹیک لگا کر نہ جانے کب تک بیٹھے رہے۔ رات دم توڑتی دکھائی دے رہی تھی۔ بولا “وعدہ کرو، ہم مل کر اس وادی سے دشمنیاں ختم کر دیں گے۔” چاند کی طرف اشارہ کر کے بولا “تم وہ ماہ درخشاں بنو گی جو پوری وادی کو نور کی چادر میں لپیٹ لے گا۔”

“ہم مل کر اندھیرے مٹائیں گے۔ ہم ظلمت و جہالت کی ردا ہٹا دیں گے” میں اقرار کرتے ہوئے اس کے ساتھ چمٹ گئی۔ وہ میرے دل کی بات کر رہا تھا۔ میرے بازو کو تھپ تھپانے لگا۔ میرا جسم میرا نہ رہا۔ ایک خفیف موج کیف تھی جوپورے بدن کو خمار آلودہ کر رہی تھی۔ ایک شیریں سی ہلچل تھی جو لرزہ طاری کیے ہوئے تھی۔ پھر وہی چٹان ہمارا بستر عیش بن گئی۔

یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔ کمرے میں مکمل سناٹا چھا گیا۔ پلوشہ کے لیے یہ حیران کن تھا۔ وہ حیرت زدہ سی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ بوڑھے سفید چہرے پر ابھرنے والے سرخ ڈورے اطمینان و اعتماد کے باعث اور واضح ہو گئے تھے۔

“میڈم! آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ آپ نے خود کو اس کے سپرد کردیا۔ ایک غیر کے حوالے کر دیا۔ دشمن کے حوالے۔”

وہ دشمن نہیں، محبوب تھا۔ میری جگہ، اس دریا کنارے، چاندنی رات میں، محبوب کی باہوں میں، اگر تم ہوتیں، تو جو تم کرتیں، وہی میں نے کیا تھا۔” وہ لاجواب ہو گئی۔

“پھر آپ کی شادی ہوئی؟”

“نہیں۔”

“کیوں؟ وہ دھوکا دے گیا؟ مرد یہی کرتے ہیں۔” پلوشہ کے لہجے میں تلخی آ گئی۔

“بتاتی ہوں، ہمت تو جمع کر لینے دو۔”

ہم لیٹے تھے۔ صبح صادق طلوع ہورہی تھی کہ گاؤں میں شور مچ گیا۔ روسی فوجیں حملہ آور ہوئی تھیں۔ گھر والے مجھےتلاش کرتے ادھر ہی آ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے میں راتوں کو اکثر ادھر آ جاتی ہوں۔

میں ڈر گئی۔ “اب کیا ہو گا؟ وہ تمہیں دیکھیں گے تو بات بہت بگڑ جائے گی۔ ہمارا خواب بکھر جائے گا۔”

“یہ نہیں ہوگا۔ میں جا رہا ہوں۔ جلد ہی تمہیں بیاہنے آؤں گا۔ ”

میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ ایک ہی راستہ تھا۔ اور ادھر سے ہمارے لوگ آ رہےتھے۔

“میں یہ دریا پار کر جاؤں گا۔ وعدہ نبھانے ضرور آؤں گا۔ اور اگر نہ بھی کر سکا تو تم پر قربان ہوکر پار اتر جاؤں گا۔”

یہ کہہ کر اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ مجھے پتا تھا اور وہ بھی جانتا تھا کہ وہ اس دریا کو پار نہیں کرسکے گا۔ تم سچ کہتی ہو، وہ دھوکا دے گیا۔ مجھے بھاری ذمہ داری سونپ کرخود ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ آج بھی دن کا آغاز ہوتا ہے تو ندی کا شفاف پانی اس کے خون کی رنگت ماتھے پرسجا لیتا ہے۔ میں ادھر یہی نظارہ دیکھنے جاتی ہوں۔

اسی رات روسیوں نے بہت سے جوانوں کو شہید کر دیا اور بہت سے اٹھا کر لے گئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بھی ان میں شامل تھا۔

ہاں! میں نے بھی عشق کیا۔ عشق حقیقی۔ ایک مرد کے ساتھ۔ ایک سچے اور بہادر مرد کے ساتھ۔ یہی عشق مجھے مضبوطی دیتا ہے۔ مجھے حوصلہ دیتا ہے، طاقتور سے ٹکرانے کا۔ طالبان کے خوف سے میں سکول بند کروں گی اور نہ ہی سعدی شیرازی و حافظ شیرازی کے اشعار پڑھانا۔ یہ مکتب عشق کا سبق پڑھاتا رہے گا۔”

وہ کہ گر من بازبینم روئے یارِ خویش را

تا قیامت شکر گویَم کردگارِ خویش را

اے کاش کہ اگر میں اپنے یار کا چہرہ دوبارہ دیکھ لوں، توقیامت تک اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتا رہوں۔

محمد زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے