خزاں کے پاؤں تلے غنچہ و ثمر سے دور

خزاں کے پاؤں تلے غنچہ و ثمر سے دور
جو شاخ ٹوٹ گئی ہو گئی شجر سے دور
کوئی پرندہ ٹھکانہ تلاش کرتا ہے
اور ایک ہم کہ رہے ساری عمر گھر سے دور
تری اُداسی ہمیں زنگ کرتی جاتی ہے
تمام رنگ یہ کہہ کر ہوئے سحر سے دور
عجیب طرح کی زنجیرِ وعدہ پاؤں میں تھی
سفر پسند مسافر رہا سفر سے دور
جو دکھ ملے تو کوئی آسرا نہیں ملتا
کنارا ہوتا ہے اکثر یہاں بھنور سے دور
میں گردِ رہ کی طرح اُس کے ساتھ ساتھ تھا شاذ
بڑے جتن سے ہوا وہ مری نظر سے دور
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے