خلوتِ بے نشان میں پھول کھلے نشان کے

خلوتِ بے نشان میں پھول کھلے نشان کے
وحشتِ دل بھی سو گئی چادرِ ماہ تان کے
اپنے لباسِ جاں پہ بھی صاحبو ٹک نظر کرو
ہنستے رہو گے کب تلک ہم کو غریب جان کے
خلوتیانِ کنج ہوش تشنہ لبانِ یم بہ دوش
میرے حریف تھے مگر لوگ تھے آن بان کے
موج بہ موج یم بہ یم بادِ مراد ساتھ تھی
ناؤ سے رد نہ ہو سکے فیصلے بادبان کے
تیری گلی میں جاگ کر ہم نے بھی جُگ بتائے ہیں
ہم پہ بھی فاش ہوں کبھی رنگ ترے مکان کے
کیا وہ نگاہِ رنگ و بو گاؤں سے کوچ کر گئی
گنگ ہے نیم کا درخت خشک ہیں کھیت دھان کے
علامہ طالب جوہری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے