خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی

خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
جب تک پودا پیڑ بنے گا ناؤ بنانی آ جائے گی

ہم کو کیا معلوم تھا اک دن فوج ہمیں غدار کہے گی
ہم کو سانپ کی گالی دینے رات کی رانی آ جائے گی

کیلنڈر کی اک تاریخ پہ پھیر رہا ہوں پنسل کو میں
سوچ رہا ہوں چند دنوں میں پھر ویرانی آ جائے گی

وقت کے سارے پہلو آخر حیرت خانے ہی پہنچیں گے
نظر ثانی کر بھی لیں تو پھر حیرانی آ جائے گی

مجھ ایسے کو اپنی عادت ڈال رہے ہو پچھتاؤ گے
چشمے کو تالاب کرو گے تو طغیانی آ جائے گی

سرحد فطری چیز نہیں ہے گھر جیسا ہے یہ سیارہ
صحن کا مقصد سمجھو گے تو باڑ ہٹانی آ جائے گی

جن لوگوں کو زنجیروں کی جھنکار میں گانا آتا ہے
ان سے مارکس کی باتیں سننا ہیر سنانی آ جائے گی

"کن” کہنا اک فن ہے آرش جب جب جس کو آ جائے گا
شعر بنانا آ جائے گا بات دکھانی آ جائے گی

سرفراز آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے