خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی

خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
جب تک پودا پیڑ بنے گا ناؤ بنانی آ جائے گی

ہم کو کیا معلوم تھا اک دن فوج ہمیں غدار کہے گی
ہم کو سانپ کی گالی دینے رات کی رانی آ جائے گی

کیلنڈر کی اک تاریخ پہ پھیر رہا ہوں پنسل کو میں
سوچ رہا ہوں چند دنوں میں پھر ویرانی آ جائے گی

میں جو دریا سے واپس آ کر گھر کا پانی پیتا ہوں
میرا گھر کو جانا سمجھو, پیاس جگانی آ جائے گی

وقت کے سارے پہلو آخر حیرت خانے ہی پہنچیں گے
نظر ثانی کر بھی لیں تو پھر حیرانی آ جائے گی

عشق شعوری کرنا ہے تو عذر کرو دانستہ اس سے
گیلی لکڑی سلگے گی تو آگ چرانی آ جائے گی

سرحد کوئی چیز نہیں ہے اور ضد اندھے کا چشمہ ہے
نادم ہونا سیکھو گے تو باڑ ہٹانی آ جائے گی

جن لوگوں کو ہتھکڑیوں میں بھی آزادی محسوس ہوئی
ان سے مارکس کی باتیں سننا ہیر سنانی آ جائے گی

صحن کی وسعت کم ہے آرش چھاؤں زیادہ لے آئے ہو
اس حکمت سے سورج کو بھی دھوپ بچانی آ جائے گی

سرفراز آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے