کھیل میں کچھ تو گڑبڑ تھی

کھیل میں کچھ تو گڑبڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ

آدھے لوگ نری مٹی تھے آدھے چاند ستارے لوگ

اس ترتیب میں کوئی جانی بوجھی بے ترتیبی تھی

آدھے ایک کنارے پر تھے آدھے ایک کنارے لوگ

اس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا

آدھے اس نے ساتھ ملائے آدھے اس نے مارے لوگ

آج ہماری ہار سمجھ میں آنے والی بات نہیں

اس کے پورے لشکر میں تھے آدھے آج ہمارے لوگ

کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا

آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

ان پر خواب ہوا اور پانی کی تبدیلی لازم ہے

آدھے پھیکے بے رس ہو گئے آدھے زہر تمہارے لوگ

آدھی رات ہوئی تو غم نے چپکے سے در کھول دئے

آدھوں نے تو آنکھ نہ کھولی آدھے آج گزارے لوگ

آدھوں آدھ کٹی یکجائی پھر دوجوں نے بیچوں بیچ

آدھے پاؤں کے نیچے رکھے آدھے سر سے وارے لوگ

ایسا بند و بست ہمارے حق میں کیسا رہنا تھا

ہلکے ہلکے چن کر اس نے آدھے پار اتارے لوگ

کچھ لوگوں پر شیشے کے اس جانب ہونا واجب تھا

دھار پہ چلتے چلتے ہو گئے آدھے آدھے سارے لوگ

حمیدہ شاہین

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے