‏خیال یار نہ آسان لیجیے صاحب



‏خیال یار نہ آسان لیجیے صاحب
شب فراق کی کچھ فکر کیجیے صاحب
کشید کرکے بدن کی تمام رعنائی
ہمارے سامنے جی بھر کے پیجیے صاحب
وہ اک نگاہ غلط اور وہ بھی داد طلب
غزل کو آج نیا رنگ دیجیے صاحب
ہے بے حجاب تمنا کہ خدوخال کے بیچ
سخن کی آپ نئی فصل بیجیے صاحب
کوئی حوالہ بھی مقبول معتبر نہ ہوا
تو اس کے حسن کا اندازہ کیجیے صاحب
مرزا مقبول احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے