خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے

خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے
زندگی کا نصاب تھے جب تھے

اپنی اُنگلی پکڑ کے چلتے تھے
خود کو ہم دستیاب تھے جب تھے

اپنی آنکھوں میں اب کھٹکتے ہیں
چشمِ یاراں کاخواب تھے جب تھے

طاق ماضی کے یہ اداس دئیے
شوق میں آفتاب تھے جب تھے

اب میسر نہیں ہیں خود کو بھی
ہم ترے بے حساب تھے جب تھے

یہ جو آنکھیں بجھی بجھی ہیں ناں
ان میں بھی چند خواب تھے جب تھے

اب جو سُوکھے پڑے ہیں قبروں پر
یہ بھی تازہ گُلاب تھے جب تھے

اقبال طارق

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے