خواہش 

خواہش 

اگر ملنے کی خواہش زور پکڑے تو مجھے آواز مت دینا

بس اک پل کو محبت یاد کرتے ہی وفا کی خوشبوؤں سے آنکھ میں پھیلے اندھیرے قید کردینا

مجھے آواز مت دینا

بس اک پل کو مری پلکوں پہ ٹھہرے بادلوں کی اوٹ میں ہنسنا

مجھے آواز مت دینا

بس اک پل کو محبت آنکھ میں بھرنا مری جانب نظر کرنا

زباں سے کچھ نہیں کہنا مگر سننا

وہ سارے سچ مرے چہرے سے پڑھ لینا

مرے دل میں سمٹ آنا

مرے جسم و جاں میں رہ لینا

مجھے آواز مت دینا

مجھے محسوس کرلینا

مری خوشبو جو سانسوں میں سمائے تو چمکتی دھوپ سہہ لینا

ہمیشہ چھاؤں میں جلنا

مجھے تم خواب میں ملنا

اگر ملنے کی خواہش زور پکڑے تو

مجھے آواز مت دینا

سلمیٰ سید

‏چاند

رقص تھا چاند کا

بادلوں سے پرے

اس شبستان میں

جو پری کے

 دریچے کے تھا سامنے

محو ایسا ہوا

دم بخود رہ گیا

اپنی ہر اک ادا

ناز کی انتہا

اس دھڑکتی ہوئی ناف کی

 جنبشوں میں کہیں کھو گیا

چاند بھی سو گیا

سلمیٰ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے