خواہش

خواہش
خواہش تمہاری بھی ہیں
حقوق تمہارے بھی ہیں
اوروں پر الزام تراشی سے
تمہیں وقتی سکون تو ملے گا
لیکن دائمی اطمینان قلب سے
محروم ہو کے رہ جاؤگی
آسمان میں چہچہاتے رنگ برنگے پرندوں کو دیکھا ھے کبھی؟
دیکھو,اور انکے نغموں میں کھو جاؤ
غور سے دیکھو اس آسمان کو
جیسء قرطاس پہ
تمام رنگ بکھرے پڑے ہیں۔
ان رنگوں میں اپنے حصے کے رنگ تلاش کرو
ان رنگوں میں ملول دلوں کے قرطاس پہ مسرتوں
کے نقش بنادو اور اس طرح اپنے حصے کا قرضہ چکا دو
لیکن کسی پر اپنا حق نہ جتاؤ
نہیں تو احساس مر جاے گا۔
تمہارے ضمیر کو دیمک کھا جائے گی
رنگ وقرطاس کو اپنا ہمنوا بنا دو
خدیجہ آغا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے