خواب کے روپ میں نہیں

خواب کے روپ میں نہیں ، اشک میں ڈہل کے آوں گا
اب کے مَیں تیری آںکھ میں بھیس بدل کے آوں گا

شعلوں بھرا سفر سہی ، آگ کی رھگذر سہی
آپ بلائیں گے تو مَیں آگ پہ چل کے آوں گا

رنگ کھلے ھیں شام کے اور ترے پیام کے
تھوڑا سا جھوم جھام کے ، تھوڑا سنبھل کے آوں گا

ہوں گی تمہارے ضبط کی ساری فصیلیں منہدم
روگ نہیں سکو گے تم ، ایسے مچل کے آوں گا

ذات کا سنگ ہوں ، سو ہوں صبر کی آگ میں ابھی
شیشہِ عشق میں تو مَیں سارا پگھل کے آوں گا

رحمان فارس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے