خواب کا رنج پہن صبر کو حیران بھی کر

خواب کا رنج پہن صبر کو حیران بھی کر
کھردری نیند مری آنکھ کا نقصان بھی کر

خامشی لب پہ سکڑ اور اندھیرے کو کھرچ
صبح کی راہ کو سناٹے کی چٹان بھی کر

خود کو آواز بنا پوروں پہ رقصاں وحشت
در و دیوار کو تھوڑا سا پریشان بھی کر

دشت میں سرخ اذیت کی تھکن سہنے تک
سبز خواہش کی لپک جسم کو ویران بھی کر

اوک میں سمٹی ہوئی پیاس کو جل جانے دے
دھوپ دھتکار , سمندر کو پشیمان بھی کر

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے