Khawab Dar Khawab

خواب در خواب مرے خواب میں شامل ہوئی ہے
خاک ِ صحرا مرے اسباب میں شامل ہوئی ہے

رقص کرتا تھا مرا عشق سرِ دشت ِ جنوں
تھکن اس واسطے اعصاب میں شامل ہوئی ہے

روشنی روشنی کہتے ہوئے دنیا والو
تیرگی حلقہ ء احباب میں شامل ہوئی ہے

راکھ ہونے لگے ہیں خواب مری آنکھوں میں
آگ یوں خطہ ء شاداب میں شامل ہوئی ہے

دیے کی لو مرے ہاتھوں میں دعا بننے لگی
روشنی تب مرے محراب میں شامل ہوئی ہے

چیختے چیختے خاموش ہوا ہوں لودھی
خامشی یوں مرے مضراب میں شامل ہوئی ہے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے