خواب

خواب
روشنی کے دائروں
رنگوں کی قوسوں
اور اڑتی دھجیوں کے درمیاں،
تم ایسے ابھرے
جیسے کوئی سردیوں میں ہاتھ رکھے
تو
ٹھٹھرتے آئنے پر ہو لے ہو لے دھند اترتی ہے۔
میں پیدا کرنے والے کی طرح بے جسم تھا
اور نور کے اشہب پہ بیٹھا، جس طرف بھی چاہتا تھا
چل نکلتا تھا۔
نہ جانے کتنے نوری سال
ان آتش سموں سے ناپ آیا تھا
نہ جانے اور کتنے فاصلے
ٹاپوں سے اڑتی گرد سے گہنا کر آ جاتا
نہ جانے کتنی دنیاوں کو سلگا کر
دھواں پہنا کر آ جاتا
کہ یک دم روشنی کے دائروں میں
تم نے اپنے خال و خد کی دھند لہرائی
وہی چہرہ نظر ایا
وہ چہرہ
جس کے گدرائے مساموں سے شعاعیں پھوٹتی تھیں
جس پہ پڑ کر دھوپ کے پاوں پھسلتے تھے۔
میں اپنے ابرووں پر
ہاتھ کا چھجا بنا کر جس کو تکتا تھا
کہ بینائی پہ کوئی آنچ نہ آئے۔
مجھے اس طرح تکتا دیکھ کر تم جھینپ کر بولیں:
"بہت روشن ہے دن تو آج کا
ہر چیز اجلی ہے”
تو میں نے ادھ کھلی آنکھوں سے سمجھایا:
” او میرے بے خبر !
سورج تو تم نے اک نظر سے چھیل ڈالا ہے
اور اس کاٹے ہوئے سورج کی کترن
بے یقینی سے
تمہاری سبز جرسی کے کھڑے کالر پہ اٹکی ہے
کہ کب تم کسمساو
اور یہ جھڑ کر
تمہارے پاوں کا چندن سنہرے رنگ سے بھر دے
یہ دھندلا چاند باقی ہے
جو اک ٹوٹا ستارہ آسماں میں کیل کر کے
اس سے لٹکا ہے
کہ شاید اس طرح وہ دھجیاں ہونے سے رہ جائے”
” وحید احمد
ہمیں تم مت بناو
چکنی باتیں بس تم اپنے پاس ہی رکھو”
یہ کہہ کر تم نے اپنے ڈھلکے آنچل کو جھٹک کر
بائیں کاندھے پر رکھا
تو اس کا پلو آسماں سے لگ گیا۔
پھر جس قدر ڈھیلے ستارے
آسماں پر چاندنی کے تار سے لٹکے ہوئے تھے
گر پڑے
اور جو قرینے سے لگے تھے
زور سے ہلنے لگے
اور دیر تک ہلتے رہے۔
وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے