خطرے کی گھنٹیوں سے بھاگے ہوئے

خطرے کی گھنٹیوں سے بھاگے ہوئے
خواب کی دستکوں سے بھاگے ہوئے
اپنی گلیوں میں آ کے مارے گئے
اجنبی سرحدوں سے بھاگے ہوئے!!
ڈھونڈتے پھرتے ہیں نئے چہرے
ہم عجائب گھروں سے بھاگے ہوئے !!
سرخ ساڑھی کے پیچ و خم میں رہے
ان گنت پگڑیوں سے بھاگے ہوئے!!
نشے کی گھاٹیوں میں کھوئے رہے
زندگی کے دکھوں سے بھاگے ہوئے!!
اس کی صحرا مزاجیوں کے سبب
ہم کھلے پانیوں سے بھاگے ہوئے!!
شاہزادی ! تُو جنگ چاہتی ہے
اور ہم لشکروں سے بھاگے ہوئے !!
راز احتشام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے