فضول بحث۔۔۔خطرۂ ایمان

فضول بحث۔۔۔خطرۂ ایمان

آج کل جہاں دیکھیں ہر جگہ ہر کوئی بالواسطہ یا بلا واسطہ جانتے نہ جانتے ہوئے دینی و مذہبی معاملات میں بحث کے ایک لا متناہی سلسلے کا حصہ بنا ہوا ہے۔پہلے ذرا یہ جانتے ہیں کہ بحث ہوتی کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔ بحث کا مطلب ہے گفتگو کرنا،تکرار کرنا۔اس کا ایک معنی جھگڑا کرنا بھی ہے۔لیکن اس کے اصل مقصد تو یہ ہے کہ جس چیز کی سمجھ نہ آ رہی ہو اس پر سمجھنے کی غرض سے غور و فکر کرنا۔ دنیاوی معاملات میں تو بحث کی سمجھ میں آتی ہے لیکن دین کے معاملات میں بحث کرنا جبکہ واضح احکامات موجود ہوں سمجھ سے بالاتر بھی ہے اور ایمان کے لیے خطرہ بھی۔مکان،دکان،پکوان،لگان،سامان اورتاوان میں تو چلو بحث کر لی لیکن ایمان،ارکان،اذان اور میزان پر بحث کیسی؟؟،امارت، سیاست، سیاحت،سفارت اور دنیا دار کی ذہانت میں تو تکرار ہو گئی لیکن عبادت ا و رریاضت اور پاک ہستیوں کی طہارت،صدیق کی صداقت،عادل کی عدالت،،سخی کی سخاوت اورولی کی ولایت و شجاعت میں بحث کیسی؟؟ بازار، خریدار، اغیار، فنکار اور مردار پہ تو بحث کی سمجھ آتی ہے لیکن نبیؐ کے اختیار،آپؐ کے جانثار،جانثار کے کردار اور اس کردار کے اعلی معیار پہ بحث کیسی؟؟شمشیر،نخچیر،کسی حقیر سیاسی مشیر،مدیر یا شریر پہ تو لب کشائی کر لی لیکن آقاؐ کی تفسیر اور پروردگار کی تدبیر یا منکر نکیر اور تقدیر پہ بحث کیسی؟؟انسان پیدا ہوتا ہے تو دین فطرت پر ہوتا ہے۔اور الحمد اللہ ہمیں توماں کی گود سے اذان سننے کا شرف ملاہے۔اب بہترین زندگی گذارنے کے لیے قرآن و حدیث کی تعلیم درکار ہے،اسے پاکر سرخرو ہو کر عالم برزخ سے ہوتے ہوئے حشر میں پہنچے گے اور پھر ان شاء ا للہ بفضل خدا جنت میں سکونت ہو گی۔قبر میں ۳ سوال ہیں۔پہلا یہ کہ رب کون؟دوسرا یہ کہ دین کیا؟تیسرا یہ کہ نبیؐ کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟بخاری شریف:1338,اور1374 میں ایک ہی سوال کا ذکر ہے کہ نبیؐ کے بارے میں کیا اعتقاد تھا؟پھر حشر میں دیکھیں تو بمطابق ترمذی شریف:2416پانچ سوالات ہیں۔عمر کہاں صرف کی؟جوانی کہاں کھپائی؟مال کہاں سے کمایا؟مال کہاں خرچ کیا؟علم پہ کتنا عمل کیا؟قبر و حشر کے ان سوالات پہ انسان کی جانچ ہو جانی ہے؟سچ بتائیں کیا ہمیں اسی پیپر کی تیاری نہیں کرنی چاہیے۔دنیا میں کون سا طالب علم ہے جو اپنا کورس چھوڑ کر اور بھلا کر باقی وہ سب کچھ پڑھتا ہے جو پیپر میں بھی نہیں آنا۔خوش قسمتی دیکھیں کہ پیپر بھی وہ جو پہلے سے ہی لیک آؤٹ ہے۔اب بھی اس کی تیاری نہ کریں تو کیسی بد نصیبی ہے؟ کوئی صاحب علم بتا سکتا ہے کہ کہاں کس مرحلے پر پوچھا جائے گا کہ نبیؐ کے علم و اختیارپر بحث کیوں نہیں کی تھی؟ ایمان ابو طالب کی تحقیق کیوں نہ کی؟ صحابہؓ کے ایمان کی گواہیوں کی ذمہ دار ی کا عہدہ تمہیں دیا تھا،پورا کیوں نہ کیا؟ولادت و وصال کی تاریخوں میں کیوں نہ جھگڑا کیا؟وغیرہ وغیرہ۔بلکہ فرقہ واریت کی عینک اتار کر،تعصب کی گرد صاف کر کے اور تکبر کے گھوڑے سے اتر کر اگر غور کریں تویہ پوچھا جائے گا کہ یہ بحث کرنے کی تمہیں جرات بھی کیسے ہوئی؟لاکھوں لوگ مل کر اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ حضرت امام عالی مقامؑ کا سر اقدس شہادت کے وقت کس حالت میں تھا۔ان کاوہ مقصد شہادت وہ شوق عبادت سب بھول گئے۔خدا کا واسطہ چھوڑیں اس تکرار کو۔سب پاک ہستیوں کا ادب کریں۔مقامات جو عنایت خداوندی ہیں ان میں جھگڑا کر کے اپنے ایمان کوخطرے میں نہ ڈالیں۔ہماری اوقات ہی کیا ہے؟ایک گھر میں رہتے ہوئے ہم حاضر لوگوں کے بارے میں حتمی رائے نہیں دے سکتے اور چلے ہیں ساڑھے چودہ سو سال پرانی پاکیزہ ترین ہستیوں کے بارے میں منھ کھولنے۔ اور وہ بھی محض من پسندی سے لکھی گئی تاریخ کا سہارا لے کر۔آج کے حالات ذرا ان آیات و احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔سورۃ الصّٰفٰت: 163 کے مفہوم میں ہے کہ ابلیس صرف جہنمیوں کو بہکاتا ہے۔ابن ماجہ:85
مفہوم ہے کہ نبی پاکؐ نے تقدیر کے موضوع پر بحث کرتے سنا تو ایسے غصے میں آ گئے کہ گویارخسار مبارک پرانار نچوڑے ہوں۔ فرمایا اسی وجہ سے پہلی امتیں ہلاک ہوئیں۔عبد اللہ ابن عمرؓ فرماتے ہیں واحد موقع تھا کہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں آپؐ کی اس محفل سے غیر حاضر ہی رہتا۔ابو داود:4617 میں ہے کہ حسن بصریؒ فرماتے ہیں آسمان سے زمین پر گر جانا مجھے ذیادہ عزیز ہے اس سے کہ میں کہوں کہ معاملہ میرے ہاتھ ہے۔ابن ماجہ:52 مفہوم ہے کہ نبیؐ کا فرمان ہے کہ علم ایسے مٹے گا کہ لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے۔ان سے مسئلے پوچھیں گے۔وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے۔خود بھی گمراہ ہوں گے دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ابن ماجہ:84 میں ہے جو تقدیر پہ بحث کرے گا اس سے اس کا سوال ہو گا۔جو نہیں کرے گااس سے نہیں پوچھا جائے گا۔ اورابو داود:4608 میں ہے کہ نبی پاکؐ نے تین مرتبہ فرمایا کہ سنوبہت ذیادہ بحث و تکرار کرنے والے اور جھگڑنے والے ہلاک ہو گئے۔اور آخر پہ یہ بھی پڑھیں۔ابن ماجہ:51 میں ہے کہ جس نے جھوٹ بولنا چھوڑا اور وہ باطل پر تھا اس کے لیے جنت کے کنارے پہ محل ہو گا۔جس نے حق پر ہوتے ہوئے بحث چھوڑ دی تو جنت کے بیچ میں اس کا محل ہو گا اور جس نے خود کو حسن اخلاق سے مزین کیا تو اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں محل ہو گا۔ توخدارا اس بحث کو چھوڑیے جو فقط وقت اور ایمان کا ضیاع ہے۔دوسروں کے ایمان کے ٹھیکیدار بنتے بنتے ہم اگر خدانخواستہ اپنا بھی ایمان گنوا بیٹھے تو بتائیں ہم سے بڑھ کر بھی کوئی خسارا پانے والا ہوگا۔ہماری کی ہوئی یہ بحث جو کہ اب سوشل میڈیا پر محفوظ ہو رہی ہے اور ہماری تربیت و اخلاق کی گواہ ہے کہیں ہمارے لیے گرفت کا سبب نہ بن جائے۔حیا ایمان کا حصہ ہے،ادب ایمان ہے اورخاموشی عبادت ہے،منزل جنت ہے۔فکر فرض تھی عمل شرط ہے۔بقول راقم
یہ لفظوں کا سیلاب کہیں تباہی نہ مچا دے
بس سادہ سی بات ہے اس کے ہو جاؤ
اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے