Khaas Tha Lekin

خاص تھا لیکن جہاں میں عام رہنا تھا مجھے
تیری عزّت کے لیے بد نام رہنا تھا مجھے

اجنبی بن کر اسے ملنے میں تھی کچھ مصلحت
نام کے ہوتے ہوئے بے نام رہنا تھا مجھے

میں ستارے کی طرح کچھ دیر کا مہمان تھا
اپنے گھر میں اک سحر اک شام رہنا تھا مجھے

میں نے کوشش کی تھی بس دل کی تسلی کے لیے
ہاں مجھے معلوم تھا، ناکام رہنا تھا مجھے

میرے ماتھے پر ستارا تھا اکیلا سا کوئی
عمر بھر تنہائیوں کے نام رہنا تھا مجھے

میں وہ سونا جس تلک پہنچا نہیں لودھی کوئی
میرا دکھ یہ ہے کہ یونہی خام رہنا تھا مجھے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے