کھا کے سوکھی روٹیاں پانی کے ساتھ

کھا کے سوکھی روٹیاں پانی کے ساتھ
جی رہا تھا کتنی آسانی کے ساتھ
یوں بھی منظر کو نیا کرتا ہوں میں
دیکھتا ہوں اس کو حیرانی کے ساتھ
گھر میں اک تصویر جنگل کی بھی ہے
رابطہ رہتا ہے ویرانی کے ساتھ
آنکھ کی تہ میں کوئی صحرا نہ ہو
آ رہی ہے ریت بھی پانی کے ساتھ
زندگی کا مسئلہ کچھ اور ہے
شعر کہہ لیتا ہوں آسانی کے ساتھ
عباس تابش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

طارق اقبال حاوی کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے