کشمیر

کشمیر
سبھی پرندے ہیں مگر پچاس دن سے قید ہیں !!
کہ ان کے سارے بال و پر پچاس دن سے قید ہیں !
بھڑک اٹھے تو کل جہان پھونک دیں گے اے عدو !
وہاں جو شعلے اور شرر پچاس دن سے قید ہیں!!
یہاں سے سب لکیر روندنے روانہ ہو چکے
وہاں سے عازمِ سفر، پچاس دن سے قید ہیں!!
نہ سانس لیں، نہ جی سکیں، خدا سے اور کیا کہیں
گلی میں خوں ہے اور گھر پچاس دن سے قید ہیں!!
ڈرے ہوئے ہیں ڈالروں کی اشتہا میں سارے سگ!
مگر جو لوگ ہیں نڈر، پچاس دن سے قید ہیں!!
خیال کی اڑان سے ڈرے ہوئے ہو ظالمو؟
اسی لیے یہ لاکھوں سر پچاس دن سے قید ہیں؟
کسی بڑی تباہی کا یہ پیش خیمہ ہے ، سنو !
سنو کہ اہلِ کاشمر ! پچاس دن سے قید ہیں !!
راز احتشام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے