کشمیر میں بھارتی استعماریت

کشمیر میں بھارتی استعماریت
پیام سحر۔ پروفیسر اویس خالد

مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم و ستم کی داستان نا صرف دل دہلا دینے والی ہے بلکہ اقوام عالم کے بنائے گئے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی ہے۔بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی حدوں سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔بچے،بوڑھے،جوان،مرد و خواتین،غرض کوئی بھی بھارتی جارحیت و بربریت سے بچ نہیں پایا۔بچوں پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے کہ تصور کرتے ہی رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انسانیت شرمانے لگتی ہے۔جوانوں کو اغوا کر کے لاپتہ کر دیا جاتا ہے اور بعد ازاں بے دردی سے مسخ شدہ لاشیں توہین آمیز انداز میں پھینک دی جاتی ہیں جو بھارت کی فرعونیت اور چنگیزیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
خواتین کی عصمت دری کر کے اور انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر حوا کی بیٹی کی حرمت و تقدیس پامال کی جاتی ہے۔ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنا بھارتی فوج و پولیس کا پسندیدہ مشغلہ اور روزمرہ کا وطیرہ بن چکا ہے۔انسانی حقوق کی پامالی کی شاید ہی ایسی کوئی اور نظیر کہیں ملتی ہو۔ حال ہی میں جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بھارت کے ایک معروف لکھاری رام پنیانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ” بھارتی حکومت کواپنی جارحیت ترک کر کے یہ سوچنا چاہیے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں۔’ ‘جمہوریت کے سب سے بڑے "جھوٹے” دعویدار اور خود ساختہ علمبردار اور انسانی حقوق کی اہمیت پر مصنوعی راگ الاپنے والے کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کشمیری عوام کوان کے حق خود ارادیت،آزادی رائے اور بنیادی حقوق کی فراہمی سے محروم کرنا اور بالجبر اپنا تسلط قائم کرنا کہاں کا انصاف ہے۔جواہر لال نہرو نے ایک مرتبہ اپنی ایک تقریر میں کہا تھا۔” لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے سے بڑھ کر اور کیا اہم ہو سکتا ہے؟”یونیورسل پریاڈک ریویو کے ورکنگ گروپ کے تحت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کے تیرھویں اجلاس جو کہ 21 مئی2017 ء تا یکم جون 2012ء تک جاری رہا،میں واضح کیا گیا کہ انڈیا میں بھارتی ریاستوں اُڑیسا،مدھیا پردیش،چیتیس گڑھ،گجرات اور ہماچل پردیش میںKashmir مذہبی بنیادوں پر اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا نا صرف استحصال کیا جاتا ہے بلکہ مختلف موقعوں پرانسانیت سوز تشدد کے زریعے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔مذہبی آزادی کے موضوع پر پیش کی گئی اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹ میں بھی واشگاف الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں پر تشدد روا رکھا جاتا ہے۔ عالمی امن کمیٹی بھی اب اس حوالے سے با خبر ہے کہ بھارت فوجی طاقت کے زریعے کشمیریوں کے بنیادی حقوق کا استحصال کر رہا ہے۔حتیٰ کہ ان کے پاس بھارتی جارحیت کے بے شمار واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن کو کسی صورت بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ (AFSPA) کے سیکشن 7 میں واضح لکھا ہے کہ کسی کو بھی غیر قانونی طور پر کسی کے بنیادی حقوق کی پامالی کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔
یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے اقوام عالم میں بھارت کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔اس بات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کے ایک اجلاس منعقدہ ستمبر 2015ء میں آزاد جموں و کشمیر کے رہنماؤں نے کیا۔سید فیض نقشبندی جو (APHC) کے سینئر اہنما ہیں اور آزاد کشمیر کے امجد یوسف خان نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے بنائی گئی پالیسیاں بالکل غیر انسانی ہیں جو انہیں کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہیں۔یہی قوانین معصوم،نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم،ماورائے عدالت قتل،اغوا اور عصمت دری جیسے گھناؤنے کھیل کھیلنے کے لئے بھارت کو جواز مہیا کرتے ہیں۔کشمیری عوام جو کہ ایک طویل عرصے سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پر امن احتجاج کے زریعے دنیائے عالم کو بھارتی جارحیت اوراپنی آزادی کے حصول کی جدوجہد سے آگاہ کر رہے ہیں وہ کسی صورت بھی اپنی آزادی کی تگ و دو سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ بے گناہ کشمیریوں کے ساتھ بھارت کا ناروا سلوک اب کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہا۔جمہوری حقوق کی پیپلز یونین کی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں موجود کشمیری مسلمان ظلم و جبر اور عدم تحفظ کا شکار ہیں اور وہاں کی مقامی پولیس اوچھے ہتھکنڈوں سے انہیں ہراساں کرتی رہتی ہے۔بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا جاتا ہے اور رہائی کے عوض بھاری رقوم کا بطور رشوت تقاضا کیا جاتا ہے۔بھارتی پولیس نے افضل گرو کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بے بنیاد جھوٹے الزام میں گرفتار کیا اور بھارت کے شدت پسند حلقوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اسے پھانسی دے دی جو سراسر عدالتی قوانین اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھی۔ 9/11 کے بعد بھارت نے کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم میں مزید اضافہ کر دیااور ان کی تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دینے کے لئے بھونڈی کوششیں کیں۔ 9/11 کی آڑ میں بھارت کے ہاتھ کشمیری مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کا ایک سنہری موقع ہاتھ لگ گیا اور الٹا کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہدکو دہشت گردی سے تعبیر کرنے کے لئے منفی پروپیگنڈا کیا جانے لگا تاکہ اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ان کے دلوں میں کشمیر کے حوالے سے پیدا ہونے والی ہمدردی کو ختم کیا جا سکے۔
لیکن اس سب کے باوجود آج دنیا جان چکی ہے کہ کشمیر کی آزادی کے حصول کی جدوجہد کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ کشمیری عوام تو ایک عرصے سے خود بھارت کی دہشت گردی کا شکار ہیں اور بھارت کی انتہا پسندی،جارحیت اور استعماریت کے آگے ڈٹے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بھارتی مظالم کی فہرست کچھ یوں ہے کہ پچھلے چند سالوں میں مجموعی طور پر 93024افراد کو شہید کیا گیا۔6966افراد کو بھارتی فوج اور پولیس نے حبس بے جا میں رکھ کر جھوٹی تفتیش کرتے ہوئے شہید کیا۔117345افراد کو بے بنیادجھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے ہراساں کیا گیا۔105861افراد کو بے گھر کیا گیا۔ 107351بچے بھارتی مظالم کی وجہ سے یتیم ہوئے۔22728خواتین کے سہاگ اجڑے۔ 9920خواتین پر جنسی تشدد کیا گیا اور انہیں اجتماعی ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے زریعے بھارتی فوج نے انسانیت کی تذلیل میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ چائنہ ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق 2012ء کی نسبت 2013ء میں بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم میں 38% اضافہ ہوا۔AFSP،TADAاورPSAجیسے کالے قوانین کے زریعے بھارت نے انسانیت سوز جارحانہ (قابل مذمت) رویہ اپناتے ہوئے کشمیری مسلمانوں پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے اور ایسے ایسے مظالم ڈھائے کہ جن کی تفصیل میں جانے کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے اور مضبوط سے مضبوط اعصاب کا مالک شخص بھی لرز کر رہ جائے۔عالمی تنظیم برائے امن UNO،USسٹیٹڈ ڈیپارٹمنٹ اور بین الاقوامی تھنک ٹینک نے ہندوستان کی طرف سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور وہاں کے مسلمانو ں کے ساتھ بہیمانہ اور وحشیانہ سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک تجزیے کے مطابق بھارتی استعماریت سے تنگ آ کر پچھلے بیس سالوں میں کم و بیش 1700 افراد نے خود سوزی کی ہے۔کشمیر کے ہسپتالوں میں ایک لاکھ سے زائد مریض (جو بھارت کی بربریت کا نشانہ بنے)داخل ہیں اور مزید مریضوں کے لئے گنجائش نہیں ہے۔بھارتی فوج کے تشدد کے بعد اکثریت ذہنی مریض بن چکی ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں تفتیش کے دوران شہید کئے جانے اور بعد ازاں دفنائے جانے کے حوالے سے 2011ء کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر کے 5 اضلاع کے 38 قبرستانوں میں 2156افراد کو بغیر شناخت کے دفنا دیا گیا۔
کشمیر میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بڑی مضبوط ہے لیکن اسے مزید واضح اور مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ہر انٹرنیشنل فورم پر بڑی مضبوطی سے اپنا موقف پیش کرے اور انسانی حقوق کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی اور بھارتی جارحیت کے خلاف ایسا عالمی دباؤ تخلیق کرے جس سے بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ بہترین اور موثر پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے قیامت خیز تشدد اور بربریت کی طرف عالمی نگاہوں کی توجہ مبذول کروانے کے لئے مناسب حکمت عملی وضع کرے۔اس کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو بھی یکجہتی اور موانست کا ایسا پیغام دیتے رہنا چاہیے جس سے ان کے پایہ استقامت کو تقویت ملتی رہے اور حوصلہ افزائی کے اس تاثر سے ان کی تحریک آزادی میں جب جب ضرورت ہو،نئی روح پھونکی جا سکے۔بیرونِ ممالک میں رہنے والے کشمیری مسلمانوں کی طرف سے بھی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا قابل ستایش ہے۔لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کے تنازعہ پر اقوام عالم کی توجہ اس وقت تک مسلسل مبذول کرواتے رہنا چاہیے جب تک کہ کشمیریوں کو آزادی جیسی نعمت مل نہیں جاتی۔جو ان کا بنیادی حق بھی ہے۔ آج چونکہ میڈیا کا دور ہے لہذا سوشل،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے زریعے بھی ایسی حکمت عملی مرتب کی جانی چاہیے جس سے کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی آوازکو پوری دنیا تک پھیلایا جا سکے اور بھارت کا اصلی مکروہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
کشمیری مسلمان انڈیا اور پاکستان کے درمیان باہمی مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں مگر بھارتی بد نیتی کی وجہ سے ابھی تک انہیں ان مذاکرات کا با ضابطہ طور پر حصہ نہیں بنایا گیا جو سراسر ذیادتی ہے۔ویسے بھی بھارت اپنے کمزور موقف کی وجہ سے ہمیشہ مذاکرات کی میزسے بھاگتا رہا ہے۔بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی کو ترک کر کے کشمیری عوام کو ان کی مرضی کے مطابق آزادانہ زندگی گذارنے دے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی قراردادیں بھی جس کی انہیں مکمل اجازت دیتی ہیں۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے