کاش ٹرین کبھی نہ آتی

کاش ٹرین کبھی نہ آتی

ٹھٹھرتی رات۔۔۔
لوگوں کا ہجوم ۔۔۔
ریلوے اسٹیشن۔۔۔
تنہا چائے سے لطف اندوز ہوتے ۔۔۔
کبھی ترے لمس کی حدت کو محسوس کرتے ہوئے خیالات کا نہ ختم ہونے والاسلسلہ
یوں ھوتا تو یوں ھوتا ۔۔۔
چاے سے اٹھتا دھواں
تری محبت کی طرح
میری سانسوں میں
مر ا دل آج پھر یاد سے دھڑکا
نگاہوں میں ترا حسیں پیکر یکدم اتر آیا
اس سے پہلے کہ میں ترے سراپے میں بہک جاتی
سماعتوں نے یہ شور سنا
ٹرین آگئی۔۔۔ٹرین آگئی۔۔۔
مجھے شدید جھٹکا لگا۔۔۔
سارے سفر میں،یہی سوچتی رہی
کاش تمھارے آنے سے پہلے
ٹرین کبھی نہ آتی.

تسلیم اکرام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے