کاش ایسی تقدیر نہ ہوتی

کاش ایسی تقدیر نہ ہوتی
شام اتنی دلگیر نہ ہوتی
یوں میری تحقیر نہ ہوتی
دل سے اگر تقصیر نہ ہوتی
عینِ عشق ادھورارہتا
رانجھا ہوتا ہیر نہ ہوتی
اسکی دعائیں ساتھ نہ ہوتیں
کوئی دوا اکسیر نہ ہوتی
عکس اترتاآنکھ میں تیرا
اوردھندلی تصویرنہ ہوتی
شعروسخن کےشاہ نہ ہوتے
لفظوں کی جاگیرنہ ہوتی
نیت اسکی صاف جوہوتی
باتوں کی تفسیرنہ ہوتی
عقل و ہنر کو کام میں لاتے
یوں الٹی تدبیرنہ ہوتی
عشبہ تیرے خواب نہ ہوتے
خوابوں کی تعبیر نہ ہوتی
عشبہ تعبیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے