کثیف روحیں

میں نے خون اور گوشت کے لوتھڑا ہوئے مظلوم لوگوں کے انبار سے خود کو جانے کیسے گھسیٹ کر باہر نکالا – تب ہی ایک رکی ہوئی سانس جو میرے سینے میں پھنسی ہوئی تھی آزاد ہو گئی – سامنے دیوار پر لگے بڑے سے گلاس پر نظر پڑی ، جہاں جسم روحوں سے الگ ہور ہے تھے – مجھے نہیں معلوم یہ میرا واہمہ تھا یا حقیقت لیکن جو کچھ بھی تھا میں اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا- مگر میں سوچ رہا تھا – یہ آئینہ اب تک کیسے ثابت ہے –

مجھے یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا – ذھن اب بھی گہری تاریکی میں ڈوبا ہو ا تھا – پھر تاریکی چھٹنے لگی ہلکی ہلکی کراہوں کی آوازیں واضح ہونا شروع ہوئیں جو تیز چیخوں میں بدل گئیں، چاروں طرف سے چیخنے چلانے اور چیزوں کے گرنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں – شائد میرا ذہن اب کچھ کام کرنے لگا تھا – یکا یک ایک جھماکہ ہوا اور ساتھ ہی سر میں شدید ٹیس کی لہر اٹھی ایسا لگا جیسے بہت بھاری پتھر یا بلڈنگ کی چھت ہمارے اوپر آن گری ہو – مجھے کچھ یاد آنے لگا —- ہاں … ہم سب اپنے گھر کے نچلے حصے میں بنے تہ خانے میں چھپے ہوئے تھے – کئی ماہ سے ہمارا ٹھکانا گھر کے اندر نہیں بلکہ اس کی تہ میں بنے اس چھوٹے سے کمرے میں تھا – گھر تو سارا ٹوٹ پھوٹ چکا تھا – ہم آسمان کی نیلی وسعتوں کو فراموش کر چکے تھے یاد ہی نہیں تھا کہ تازہ کھانے کی خوشبو کیسی ہوتی ہے اور چمکتے ہوئے تاروں کو دیکھ کر کیا خوشی ملتی ہے – اب تو بس ہر وقت یہی ڈر کھائے جا رہا تھا کہ کسی بھی لمحے کوئی ہوائی جہاز ہم پر کوئی بم برسا دے گا جو ہمیں چھیتڑوں میں بدل دے یا کوئی زہریلی گیس کا میزائل فضاء کو مسموم کر ڈالے – تین دن ہوئے ہمارے ماں باپ کھانے کی تلاش میں باہر گئے مگر ابھی تک واپس نہیں لوٹے –

مجھے سخت بھوک لگ رہی تھی – چھوٹا بھائی اور دو نوں ننھی بہنیں خاموشی سے میرا منہ تک رہی تھیں –

جانے کہاں سے تھوڑی سی بچی کچی ہمت اکھٹا کی اور لکڑی کی سیڑھی سے لٹکتا ہوا ایک تنگ سرنگ میں آ نکلا جو ہمیں شہر کے ٹوٹے پھوٹے شاپنگ سنٹر سے ملانے کا کام کر تی تھی اس سرنگ سے کئی اور بھی گلیاں نکلتی تھیں جو کبھی ہنستے بستے پارک اور اسکول تک بھی جاتی تھیں مگر وہاں اب سوائے ملبے کے ڈھیر کے کچھ نہیں بچا تھا – ہر طرف قبرستان جیسی خاموشی اور اداسی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے – کالی بدرنگ عمارتیں ہمارے سروں پر کسی بھوت کی طرح اپنے پنجے گاڑے ہوئے ایستادہ تھیں -مجھے تعجب آمیز تجسس نے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر ان میں سے ہر ایک کسی بھی کھڑکی اور دروازوں سے محروم کیوں تھی -یہ تجسس بتدریج گہرے خوف میں تبدیل ہوتا جا رہا تھا -میں نے اس بھیانک منظر سے نگاہیں چراتے ہوئے اپنے آپ کو ٹٹولنا چاہا – مگر یہ کیا ان تاریک گلیوں سے باہر نکلتے ہوئے ہمارے جسم کہیں اندر ہی رہ گئے تھے -اب اس بڑے سے ہال میں بھٹکتی ہوئی روحوں کی طرح تیرتے پھر رہے تھے – میں نے گھبرا کر خود کو جمع کرنے کی ناکام کوشش کی — کیا میں بھی روح بن چکا ہوں — روحیں جو کہیں بھی جا سکتی ہیں – دفعتا ً یوں محسوس ہوا جیسے میری بھوک بھی مٹ چکی ہو – پھر خیال آیا میرے بہن بھائی اب بھی بھوکے ہوں گے – دل سے دعا نکلی — انہیں کہیں سے کچھ کھانے کو مل گیا ہو — کیا ہی اچھا ہوا کہ وہ بھی میری طرح ہلکی اور پرسکون روحوں میں تبدیل ہو جائیں -میں خوشی اور اداسی کے ملے جلے احساس کی کیفیت کے مابین کسی پرندے کی طرح اڑنے کی سعی کرنے لگا لیکن کچھ سائے دیکھ کر پھر ڈر نے مجھے گھیر لیا –

وہ سائے ان کثیف روحوں کے تھے جو اب بھی بھوک سے چلا رہی تھیں – تاریکی نے ان کے اندر گھر بنا لیا تھا اور ان کے آر پار کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا – وہ مجھے اپنے اندر ضم کرنے کو بہت تیزی سے بڑھ رہی تھیں – میں اپنی جگہ ساکت ہو کر رہ گیا — قریب تھا کہ وہ مجھے نگل جاتیں – تب ہی ایک روشن ہیولے نے جس کے آر پار سب کچھ صاف دکھائی دے رہا تھا میرا ہاتھ تھام لیا اس کی نرم جھرنے کی طرح بہتی ہوئی آواز سنائی دی ..” ڈرو نہیں یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں -ان کی تاریکی کچھ دیر میں انہیں کھا لے گی – یہ تاریکی ان معصوم بچوں کی کراہوں سے جنم لے رہی ہے جنہیں ان کثیف روحوں کے جنگی جنون نے کچل دیا تھا اور کچھ بچوں کو ان کی بے لگام جنسی خواہشات نے ریپ کر کے قتل کر دیا تھا – لیکن یہ اپنی خواہش کی تسکین میں اتنے مگن تھے کہ اپنے ارد گرد جمع ہوتا گاڑھا لہو انہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا جو ان کی تاریکی کو بلیک ہولز میں بدلتا جا رہا تھا – یہاں تک کہ خود ان کے جسم بھی پھٹ کر ان گنت کالے ذروں میں بدل گئے اور زمین کی تہ میں دھنس گئے – اب یہ کثیف روحوں کی شکل میں معصوم انسانوں کو ڈراتے پھر رہے ہیں – یہ بھی چاہتی ہیں کہ کسی طرح اس بلیک ہول کی تاریکی سے نکل آئیں جو کسی بھاری بوجھ کی طرح انہیں اپنے ساتھ گہرائی میں گھیسٹ رہا ہے – مگر وہ دیکھو – وہ سیاہی انہیں اپنے اندر ضم کر ہی ہے – میں نے دیکھا ایک روشنی کی کرن ہماری طرف بڑھ رہی تھی جس کے پار ابدی سکوں ہمارا انتظار کر رہا تھا اس کرن میں میرے بھائی اور ماں باپ کے چہرے بھی چمک رہے تھے اور اب میں بھی ان کا حصہ بنتا جا رہا تھا –

سلمیٰ جیلانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے