کروں گا اشکِ رواں سےوضو مدینے میں

کروں گا اشکِ رواں سےوضو مدینے میں
کہ میں لگاؤں گا آوازِ ھو مدینے میں
اندھیرا چھٹ گیا سارا چراغ جلنے لگا
کہ اُنﷺ کا نور ہے اب چار سُو مدینے میں
عجیب خاکِ تمنا ہے جسم فانی کی
بقا کو چاہتی ہے سرخرو مدینے میں
مجھے بھی خواہشِ دیدار نے دکھایا ہے
جمال میں ہے خدا سُوبہ سُو مدینے میں
ترے غلام پہ رحمت کاہو نزول آقاؐ
یہ جستجو ہے مری جستجو مدینے میں
زمین پہ پاؤں دھروں اور زخم سلنے لگیں
ہوایٔں کرتی ہیں کارِرفو مدینے میں
مُجھے نہ کوئی سلیقہ ہے عشق کا اے شاذ
میں کس طرح سے کروں آرزو مدینے میں
شجاع شاذ
یہی نعتﷺ نعمان زاہد کی آواز میں سنیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے