کڑی دھوپ کا جو سفر یاد آیا

کڑی دھوپ کا جو سفر یاد آیا
ترے سائے کا وہ شجر یاد آیا
مکیں تھے جہاں پر ہنسی سے خوشی سے
مجھے یاد آیا وہ گھر یاد آیا
اُسے بھولنے کا کیا تو ہے وعدہ
کروں گی میں کیا وہ اگر یاد آیا
بسا ہی رہا وہ تصوّر میں میرے
جدھر بھی گئی میں اُدھر یاد آیا
مری وحشتیں جو بڑھاتا رہا تھا
وہ تنہائیوں کا سفر یاد آیا
نکلتے ہی وہ چاند کا آسماں پر
وہ آنا ترا بام پر یاد آیا
خدا سے اُسے مانگنے میں لگی تو
دعاؤں کا اپنی اثر یاد آیا
مجھے درد کی بارشوں میں بہا کر
وہ رہنا ترا بے خبر یاد آیا
میں بھولی رہی تھی جسے عمر ساری
وہی مشکلوں میں مگر یاد آیا
کبھی سِل نہ پائے مرے زخم ناہید
’’مجھے کوئی شام و سحر یاد آیا
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے