کربِ تنہائی میں سمٹی ہوئی چادر کی طرح

کربِ تنہائی میں سمٹی ہوئی چادر کی طرح
دشت بھی لگتاہے مجھ کو مرے بستر کی طرح
نہ کوئی خواہشِ منزل نہ تلاشِ منزل
اُڑ رہا ہوں میں کسی ٹوٹے ہوئے پر کی طرح
اب کسی رت کا اثر ان پہ نہیں ہوتا ہے
اب تو یہ لوگ مجھے لگتے ہیں پتھر کی طرح
قیدِ تنہائی سے مانوس ہوا ہوں اتنا
اب قفس بھی مجھے لگتا ہے مرے گھر کی طرح
حال یہ ہے کہ تری یاد کا صحرا اب تو
میری آنکھوں سے چھلکتا ہے سمندر کی طرح
اب کہیں جا کے ڈھلا ہے وہ مرے لفظوں میں
جو مری آنکھ میں ٹھہرا رہا منظر کی طرح
اب میں کس طرح سمیٹوں یہ بکھرتے ہوئے خواب
سانس آتی ہے مرے جسم میں صَر صَر کی طرح
اُس کے کاسے میں بجُز رنج کوئی چیز نہیں
اُس نے مانگی تھی محبت بھی گداگر کی طرح
اُس کو سجنے کی سنورنے کی ضرورت نہیں شاذؔ
اُس پہ جچتی ہے حیا بھی کسی زیور کی طرح
شجاع شاذ 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے