کار دل اس مہ تمام سے ہے

کار دل اس مہ تمام سے ہے
کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے
تم نہیں فتنہ ساز سچ صاحب
شہر پرشور اس غلام سے ہے
بوسہ لے کر سرک گیا کل میں
کچھ کہو کام اپنے کام سے ہے
کوئی تجھ سا بھی کاش تجھ کو ملے
مدعا ہم کو انتقام سے ہے
کب وہ مغرور ہم سے مل بیٹھا
ننگ جس کو ہمارے نام سے ہے
خوش سرانجام وے ہی ہیں جن کو
اقتدا اولیں امام سے ہے
عر میرے ہیں سب خواص پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے
شیطنت سے نہیں ہے خالی شیخ
اس کی پیدائش احتلام سے ہے
سر جھکائوں تو اور ٹیڑھے ہو
کیا تمھیں چڑ مرے سلام سے ہے
سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے