کپتان

دریا تمہاری محبوبہ کی بھینٹ مانگتا ہے۔۔۔۔ کپتان!!!
یہ کس نے چھید بھیجے ہیں؟
یہ کس آواز کو جرات ہوئی
کہ وہ ہمارے اوم استغراق کی سرحد عبورے۔
یہاں پر سرسراہٹ کی ذرا سی سر
سراسر صور اسرافیل ہے ہم کو۔۔۔۔۔۔ یہ تم سب جانتے ہو۔
سنسنی کے برج پر پہرے پہ جو کپتان سناٹا کھڑا تھا
مر گیا یا سانس لیتا ہے؟
سکوں کے چوب دارو۔۔۔!!
فصیل جست و آہن پر یہ کس نے چاند ماری کی
یہ کس نے چھید بھیجے ہیں؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے معلوم ہے
کوئی نہیں بولے گا
سیما پار کی مکار درزن ہونٹ سی کر جا چکی ہے۔
مگر میں جانتا ہوں
یہ جس آواز کی بو میری وادی کی عمل داری میں پھیلی ہے
مری شامہ اسے پہچانتی ہے۔
یہ جس آواز کے پائے گریزاں نے
علاقہ غیر میں آنے کی ہمت کی
میں اپنی سرخ مٹی پر
قطار نقش پا کے سہم سے ان پاوں کو پہنچانتا ہوں۔
۔۔۔۔۔ کھرا تو شہر کے مرکز میں جاتا ہے۔۔۔۔۔
ہماری سنسنی کے برج پر پہرے پہ جو کپتان سناٹا تھا
اکثر رات کے بھیگے ہوئے لمحوں میں
سرگوشی سے ملنے شہر جاتا تھا۔
یہ حرافہ وہی ہے
جو چھنالی پاوں سے چلتی یہاں تک آ گئی۔
دیکھا۔۔۔۔۔ کہاں تک آ گئی؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنو، کیپٹن سکون الدین سناٹا۔۔۔۔!!!
بھرے بریگیڈ کی ٹکڑی سنبھالو
شہر پر لشکر کشی کر دو۔
(درختوں، عورتوں، بچوں، پرندوں سے ذرا ہٹ کر)
بڑی عجلت سے وہ آواز کی گستاخ شہ رگ شہر کے دل سے اکھاڑو
۔۔۔۔ اور لے آو۔۔۔ ۔
اور اس کے گرد لپٹی اس کی رشتےدار شریانوں کو توڑو
شہر کے سینے پہ پھینک آو
جہاں سانسوں کے ولچر
پسلیوں کی ہانپ پر اپنے پروں کی بو جھٹکتے ہیں۔
فراز کوہ پر
اورنگ سنگ سرخ سے ہم تم کو دیکھیں گے۔
کہ کب جاتے ہو۔
کب آتے ہو۔
کب پتھر کے چھجے پر کھڑے ہو کر
حسیں مجرم کو اپنے سر کے سودا سے کہیں اوپر اٹھاتے ہو۔
اسے اس دودھیا دھاگے کا حصہ کب بناتے ہو
جو کھائی کی سیہ تہہ میں چمکتا ہے۔
۔۔۔۔۔ تو اب جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
فراز کوہ پر اورنگ سنگ سرخ سے ہم تم کو دیکھیں گے۔
وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے