کنور سنگھ​

 کنور سنگھ​
ذات کا ٹھاکر کنور سنگھ چاندنی چوک کا نمبردار تھا۔ یہ تو کہنا ممکن نہیں کہ وہ اچھا نمبردادر تھا کہ برا۔ میرے لیے اس کی اہمیت یہ تھی کہ کالاڈھنگی کا سب سے کامیاب چورشکاری تھا اور میرے بڑے بھائی ٹام سے لگاؤ رکھتا تھا۔ ٹام بچپن سے ہی میرا ہیرو ہے۔
کنور سنگھ نے مجھے ٹام کے بہت سارے واقعات سنائے ہیں کیونکہ وہ دونوں شکار پر برسوں تک ایک ساتھ جاتے رہے تھے۔ ان میں سے سب سے زیادہ مجھے ایک واقعہ پسندہے جو کنور سنگھ نے بہت مرتبہ سنایا ہے کہ کیسے میرے بھائی ٹام اور ایک بندہ ایلیس سے متعلق ہے۔ میرے بھائی نے اس بندے کو ایک مقابلے میں ایک پوائنٹ سے ہرایا تھا۔ یہ مقابلہ پورے ہندوستان میں رائفل کے بہترین نشانے سے متعلق تھا۔
ٹام اور ایلیس ایک بار گروپو کے جنگل میں شکار کھیل رہے تھے کہ ایک صبح ان کا سامنا ہو گیا۔ اس وقت کہرا اٹھنا شروع ہو گیا تھا۔ ان کی ملاقات والی جگہ کے سامنے کافی بڑا نشیب تھا جہاں علی الصبح سور اور ہرن عام ملتے تھے۔ ٹام کے ساتھ کنور سنگھ اور ایلیس کے ساتھ نینی تال کا ایک شکاری بدھو تھا۔ کنور سنگھ کو بدھو سے نفرت تھی کہ وہ کم ذات ہونے کے علاوہ جنگل سے متعلق امور سے قطعا ناواقف تھا۔
سلام دعا کے بعد ایلیس نے ٹام سے کہا کہ اگرچہ مقابلے میں وہ محض ایک پوائنٹ سے ہارا ہے مگر وہ آج دکھائے گاکہ وہ بہتر شکاری ہے۔ اس نے تجویز پیش کی کہ دونوں دو دو فائر کریں گے۔ قرعہ اندازی سے ایلیس جیتا اور اس نے پہلے فائر کرنے کا ارادہ کیا۔ احتیاط سے بڑھتے ہوئے اس نشیب پر پہنچے۔ ایلیس کے پاس مقابلے والی اعشاریہ 450 بور کی ہنری مارٹینی رائفل تھی جبکہ ٹا م کے پاس اعشاریہ 400 کی د ونالی ویسٹلی رچرڈز تھی۔ ٹام کو یہ فخر تھا کہ یہ رائفل پورے ہندوستان میں اس وقت تک چند ہی افراد کے پاس تھی۔ شاید انہوں نے بڑھتے ہوئے غلطی کی یا پھر ہوا کا رخ غلط تھا، جب وہ نشیب کو پہنچے تو وہ خالی تھا۔
نشیب کے قریبی جانب خشک گھاس کی پٹی تھی جس کے بعد والی گھاس جلی ہوئی تھی اور وہاں نئی گھاس اگ رہی تھی اور صبح اور شام کو جانور عام ملتے تھے۔ کنور سنگھ کا خیال تھا کہ ابھی اس پٹی میں شاید کچھ جانور ہوں۔ اس نے بدھو کے ساتھ مل کر اسے آگ لگا دی۔
جب گھاس کو خوب آگ لگ گئی تو پرندے گھاس سے فرار ہونے والے ٹڈوں اور دیگر حشرات کو کھانے کو جمع ہو گئے۔ اس وقت گھاس کی دوسری جانب حرکت دکھائی دی اور دو سور مخالف سمت جاتے ہوئے دکھائی دیے۔ آرام سے زمین پر گھٹنا ٹیک کر ایلیس نے رائفل اٹھائی اورنشانہ لے کر گولی چلائی۔ فوراً ہی پچھلے سور کی پچھلی ٹانگوں کے درمیان سے مٹی اڑتی دکھائی دی۔ ایلیس نے رائفل جھکا کر پتی کو دوسو گز پر اٹھایا اور خالی کارتوس نکال کر دوسری گولی چلائی۔ دوسری گولی سے اگلے سور کے سامنے سے دھول اڑتی دکھائی دی۔ سوروں کا رخ ایک جانب ہو گیا اور رفتار بھی تیز ہو گئی۔اب سور شکاریوں کے سامنےآڑے آ گئے۔
اب ٹام کی باری تھی اور اس نے گولی چلانے میں جلدی کرنی تھی کہ جنگل قریب تھا اور سور رائفل کی مار سے نکل رہے تھے۔ کھڑے کھڑے ٹام نے رائفل اٹھائی اور دو گولیاں چلائیں اور دونوں سور سر میں گولیاں کھا کر وہیں گر گئے۔یہاں پہنچ کر کنور سنگھ بتاتا ہےکہ اس نے شہر میں پلے کم ذات بدھو کو مخاطب کیا کہ جس کےتیل لگے بالوں کی بو سے بھی اسے نفرت تھی: ‘دیکھا؟ تم کہتے تھے کہ تمہارا صاحب میرے صاحب کو شکار کھیلنا سکھائے گا؟ اگر میرا صاحب تمہارے صاحب کے منہ پر کالک ملنا چاہتا تو ایک ہی گولی سے دونوں سور گراد یتا۔‘
اب یہ کیسے ممکن ہو پاتا، اس بارے کنور سنگھ نے کبھی روشنی نہ ڈالی تھی اور نہ ہی میں نے کبھی پوچھا کیونکہ مجھے اپنے بھائی پر پورا بھروسہ تھا کہ اگر وہ چاہتا تو دونوں سور ایک ہی گولی سے مار لیتا۔ جب مجھے پہلی بندوق ملی تو کنور سنگھ سب سے پہلے اسے دیکھنے آیا۔ وہ علی الصبح پہنچا اور میں نے بڑے فخر سے اپنی دو نالی مزل لوڈر اسے تھمائی تو اس نے اشارتاً بھی دائیں نال میں موجود بڑے شگاف کی طرف توجہ نہیں کی اور نہ ہی تانبے کی تار کو دیکھا جو کندے کو نالی سے جوڑے رکھنے کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ اس نے محض بائیں نال کی خوبیوں پر بات کی کہ یہ کتنی عمدہ ہے اور کتنا عرصہ مزید نکال سکے گی اور اس سے کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے۔ پھر اس نے بندوق ایک طرف رکھ کر میری طرف رخ کیا اور یہ کہہ کر مجھے خوشی سے باغ باغ کر دیا: ‘اب تم لڑکے نہیں رہے بلکہ مرد بن گئے ہو۔ اس عمدہ بندوق کے ساتھ اب تم کسی جنگل میں کہیں بھی بلا خوف جا سکتے ہو، بس درخت پر چڑھنا سیکھ لو۔‘اس وقت میری عمر آٹھ برس تھی۔پھر اس نے بتایا: ‘اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جنگل میں جانے والے ہم شکاریوں کے لیے درخت پر چڑھنا کتنا ضروری فن ہے۔ ہار سنگھ اور میں ایک پچھلے سال اپریل میں شکار کھیلنے گئے تھے۔ اگر گاؤں سے نکلتے ہوئے لومڑی ہمارا راستہ نہ کاٹتی تو سب ٹھیک ہی ہوتا۔ ہار سنگھ کے بارے تمہیں علم ہے کہ اسے جنگل کے بارے زیادہ علم نہیں۔ جب میں نے لومڑی کو دیکھا تو واپس جانے کا مشورہ دیا۔ مگر وہ میری بات پر ہنسا اور بولا کہ بچگانہ بات ہے کہ لومڑی دیکھنے سے کوئی مشکل آئے گی۔سو ہم نے سفر جاری رکھا۔ جب ہم نکلے تو ستارے مدھم ہو رہے تھے۔ گروپو کے نزدیک میں نے پہلے چیتل پر گولی چلائی اور بغیر کسی وجہ کے خطا کی۔ پھر ہار سنگھ نے گولی سے ایک مور کا پر توڑا مگر ہم نے جتنی بھاگ دوڑ کی، مور گھاس میں گم ہو گیا۔ پھر ہم نے پورا جنگل چھان مارا مگر کوئی جانور یا پرندہ نہ دکھائی دیا۔ سو شام کو ہم منہ لٹکائے واپسی کا رخ کیا۔‘
‘چونکہ ہم دو گولیاں چلا چکے تھے، اس لیے ہمیں ڈر تھا کہ فارسٹ گارڈ ہماری واپس کے منتظر ہوں گے اور ہم نے راستہ چھوڑ کر ایک ریتلے نالے کا رخ کیا جو گھنے جھاڑ جھنکار اور خاردادر بانس کے جنگل سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہم اپنی قسمت کو کوستے جا رہے تھے کہ اچانک ہمارے سامنے نالے سے شیر نکلا اور ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیر تک ہمیں دیکھتے رہنے کے بعد شیر واپس مڑ کر نالے سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر تک انتظار کرنے کے بعد ہم آگے بڑھے اور شیر پھر اچانک نالے میں نکل آیا اور اس بار ہمیں گھورنے کے علاوہ اس نے غرانا اور دم ہلانا بھی شروع کر دی۔ ہم پھر رک گئے اور کچھ دیر بعد شیر خاموش ہو کر نالے سے نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد ساتھ کے جنگل سے کافی مور شور مچاتے اڑے۔ شاید شیر نے انہیں ڈرایا ہوگا۔ ان میں سے ایک ہمارے سامنے دائیں جانب ہلدو کے درخت پر بیٹھ گیا۔ اسے دیکھتے ہی ہار سنگھ نے کہا کہ وہ اسے مارتا ہے تاکہ خالی ہاتھ گھر نہ جائیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ گولی کی آواز سے شیر بھی بھاگ جائے گا۔ قبل اس کے کہ میں روک پاتا، اس نے گولی چلا دی۔‘
‘اگلے لمحے جھاڑیوں سے شیر کی دہشت ناک غراہٹ ہماری جانب آتی سنائی دی۔ یہاں نالے کے کنارے کچھ کاجو کے درخت تھے اور میں نے ایک درخت کا رخ کیا اور ہار سنگھ نے دوسرے درخت کو چنا۔ میرا درخت شیر کے قریب تر تھا اور اس کی آمد سے قبل ہی میں درخت پر اونچا چڑھ گیا۔ ہار سنگھ نے بچپن میں درختوں پر چڑھنا نہیں سیکھا تھا اور جب وہ زمین پر کھڑا چھلانگ لگا کر شاخ پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا کہ شیر پہنچ گیا اور اس نے جست لگائی۔‘
‘شیر نے نہ تو ہار سنگھ کو کاٹا اور نہ ہی پنجے مارے بلکہ اس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑے ہو کر درخت پر اگلے پنجے جما دیے اور ہار سنگھ شیر اور درخت کے درمیان پھنس گیا۔ پھر شیر نے درخت پر پنجے مارنا شروع کر دیے۔ شیر غراتا رہا اور ہار سنگھ چیختا رہا۔ میں اپنی بندوق ساتھ درخت پر لے گیا تھا اور اسے اپنے پیروں میں تھام کر میں نے اسے بھرا اور ہوا میں گولی چلا دی۔ اتنے قریب سے گولی کا دھماکہ سن کر شیر فرار ہو گیا اور ہار سنگھ زمین پر گر پڑا۔‘‘
جب شیر چلا گیا تو کچھ دیر بعد میں خاموشی سے اترا اور ہار سنگھ کے پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ شیر کا ایک ناخن اس کے پیٹ پر ناف کے قریب لگا اور اس نے پیچھے تک چیر دیا تھا اور آنتیں وغیرہ باہر نکل آئی تھیں۔ اب مسئلہ پیدا ہو گیا۔ میں اسے چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا اور نہ ہی مجھے ایسے امور کا کوئی تجربہ تھا۔ سو میں یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ آیا تمام آنتیں وغیرہ اس کے کھلے پیٹ میں ڈال دوں یا پھر انہیں کاٹ دوں میں نے شیر کے ڈر سے سرگوشیوں میں ہار سنگھ سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ یہ سب چیزیں اندر ڈال دینی چاہیئں۔
سو ہار سنگھ زمین پر لیٹا رہا اور میں نے سارے اندرونی اعضا اور ان سے چپکے گھاس پھونس اور ٹہنیاں اندر ڈال دیں اور پھر اپنی پگڑی سے اس کے پیٹ کو مضبوطی سے باندھ دیا تاکہ پھر نہ باہر نکل آئیں۔ پھر ہم سات میل طویل سفر پر روانہ ہو گئے۔ میں نے دونوں بندوقیں اٹھائی ہوئی تھیں جبکہ ہار سنگھ میرے پیچھے چل رہا تھا۔ ہم آہستہ آہستہ چل رہے تھے کہ ہار سنگھ نے پگڑی کو سنبھالا ہوا تھا۔ راستے میں ہی رات ہو گئی اور ہار سنگھ کا خیال تھا کہ ہم سیدھا کالاڈھنگی کے ہسپتال جائیں سو میں نے بندوقیں چھپا دیں اور ہم تین میل مزید سفر پر روانہ ہو گئے۔
جب ہم پہنچے تو ہسپتال بند ہو چکا تھا مگر ڈاکٹر بابو ساتھ ہی رہتا تھا اور ابھی سویا نہیں تھتا اور جب اس نے ہماری بپتا سنی تو اس نے مجھے تمباکو فروش الادیہ کو بلانے بھیج دیا جو کہ کالاڈھنگی کا پوسٹ ماسٹر بھی ہے اور اسے ہر ماہ حکومت سے پانچ روپے ملتے ہیں اور اس دوران ڈاکٹر نے لالٹین جلائی اور ہار سنگھ کو لے کر ہسپتال چلا گیا۔ جب میں الادیہ کے ساتھ واپس لوٹا تو ڈاکٹر نے ہار سنگھ کو چٹائی پر لٹا دیا تھا۔ پھر الادیہ نے لالٹین پکڑا اور میں نے ہار سنگھ کے زخم کے دونوں سرے تھامے اور ڈاکٹر نے اسے سینا شروع کر دیا۔ زخم سینے کے بعد جب میں نے ڈاکٹر کو دو روپے دیے تو اس شریف جوان نے لینے سے انکار کر دیا اور اس نے ہار سنگھ کو درد کُش دوا پلائی اور پھر ہم لوگ اپنے گھروں کو لوٹ آئے تو دیکھا کہ ہماری بیویاں بین کر رہی تھیں کہ شاید ہمیں ڈاکوؤں یا جنگلی درندوں نے مار دیا ہوگا۔ اس لیے صاحب، تمہیں اندازہ ہو گیا ہوگا کہ جنگل میں شکار کھیلنے کے لیے درخت پر چڑھنا جاننا کتنا اہم ہے، اگر ہار سنگھ کو بچپن میں کسی نے یہ بات سمجھائی ہوتی تو ہم پر یہ مصیبت نہ پڑتی۔
ابتدائی مزل لوڈر دور میں میں نے کنور سنگھ سے بہت کچھ سیکھا ہے جن میں سے ایک ذہنی نقشے بنانا بھی ہے۔ میں بہت بار کنور سنگھ کے ساتھ اور بہت مرتبہ اکیلا بھی ان جنگلوں میں شکار کھیلنے جاتا تھا کہ کنور سنگھ کو ڈاکوؤں کا خوف تھا اور کئی کئی ہفتے گاؤں سے باہر نہ نکلتا۔ جن جنگلوں میں ہم شکار کھیلتے تھے، وہ کئی سو مربع میل پھر پھیلا ہوا تھا۔ بہت مرتبہ میں سانبھر، چیتل یا سور مار کر آتا تو راستے میں کنور سنگھ کو بتا دیتا کہ شکار کہاں پڑا ہے۔ اس کا گاؤں میرے گھر کی نسبت جنگل سے تین میل قریب تر تھا۔
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کنور سنگھ شکار کردہ جانور نہ اٹھا سکا ہو، چاہے جنگل میں وہ کہیں بھی پڑا ہو اور اسے میں کیسے چھپا کر آیا ہوں کہ گِدھ نہ دیکھ سکیں۔ ہم نے ہر غیرمعمولی درخت، چشمے، راستے اور نالے کا نام رکھا ہوا تھا۔ فاصلوں کا اندازہ کرنے کے لیے ہم نے مزل لوڈر کی گولی کا حساب رکھا ہوا تھا اور سمت کا تعین کرنے کے لیے ہم نے کاجو کے اس درخت کو مرکز مانا ہوا تھا جس پر ہار سنگھ پر حملہ ہوا تھا۔ اس شیرنی کے کچھ وقت قبل ہی بچے پیدا ہوئے تھے اور اسی وجہ سے وہ انسانی موجودگی سے پریشان تھی۔ کاجو کا یہ درخت ڈیڑھ فٹ موٹا تھا اور شیرنی نے غصے کے مارے اس کا ایک تہائی تنا تباہ کر دیا تھا۔
یہ درخت گروپو میں شکار کرنے والے تمام شکاریوں اور چور شکاریوں میں مشہور تھا اور 25 سال بعد جا کر جنگل کی آگ میں جل کر تباہ ہو گیا۔ ہار سنگھ کو ملنے والی ابتدائی طبی اور پھر ڈاکٹری امداد چاہے جیسی رہی ہو اور اس کے اندر جھاڑ جھنکار اور ٹہنیاں بھی چلی گئی تھیں، پھر بھی طویل عمر جیا۔ سمت نما کی چار سمتیں۔ جب میں نے کوئی جانور چھپایا ہوتا یا کنور سنگھ کو فضا میں گِدھ منڈلاتے دکھائی دیتے اور اندازہ ہوتا کہ شیر یا تیندوے نے جانور مارا ہوگا تو چاہے دن ہو یا رات، ہم پورے اعتماد کے ساتھ اسے تلاش کرنے نکل کھڑے ہوتے۔
جب میں سکول سے نکلا اور بنگال میں کام شروع کیا تو ہر سال محض تین ہفتے کے لیے کالاڈھنگی واپس آتا۔ ایک بار واپسی پر یہ دیکھ کر مجھے سخت تکلیف ہوئی کہ کنور سنگھ افیون کی لعنت کا شکار ہو چکا ہے۔ مسلسل ملیریا سے کمزور ہونے کے بعد یہ عادت مزید پختہ ہوتی گئی۔ اس نے کئی بار مجھ سے وعدہ کیا کہ اسے چھوڑ دے گا مگر ناکام رہا۔ جب ایک بار فروری میں کالاڈھنگی آیا تو یہ جان کر کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ کنور سنگھ سخت بیمار ہے۔ رات کو میری آمد کی خبر سن کر اگلے روز کنور سنگھ کا سب سے چھوٹا بیٹا جو اٹھارہ برس کا تھا، بعجلت میرے پاس پہنچا کہ اس کا باپ مرنے والا ہے اور مرنے سے قبل مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔
چاندنی چوک کے نمبردار ہونے کی حیثیت سے وہ حکومت کو چار ہزار روپے کا مالیانہ ادا کرتا تھا اور اہم بندہ شمار ہوتا تھا اور اس کا گھر پختہ اور سلیٹ کی چھت والا تھا جہاں میں بہت مرتبہ گیا ہوں۔ جب میں اس کے بیٹے کے ساتھ گھر کو گیا تو عورتوں کے بین کی آواز اس کے گھر کی بجائے اس ایک کمرے والے جھونپڑے سے آ رہی تھیں جو کنور سنگھ نے اپنے ایک ملازم کے لیے بنوایا تھا۔ اس کے بیٹے نے بتایا کہ اس کا باپ اس لیے یہاں منتقل ہوا ہے کہ گھر میں بچوں کے شور سے اس کی نیند خراب ہوتی تھی۔ ہمیں آتے دیکھ کر کنور سنگھ کا بڑا بیٹا باہر نکلا اور بولا کہ کنور سنگھ بے ہوش ہے اور چند منٹ میں مرنے والا ہے۔ میں نے دروازے میں قدم رکھا اور جب نیم تاریکی سے میری آنکھیں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو دیکھا کہ پورے کمرے میں گہرا دھواں چھایا ہوا ہے اور کنور سنگھ زمین پر ننگا پڑا ہوا ہے اور اس پر ایک چادر پڑی تھی۔ اس کے بے جان ہاتھ کو اس کے پاس بیٹھے ایک بوڑھے آدمی نے تھاما ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں گائے کی دم تھی (ہندو مذہب میں مرتے ہوئےا نسان کو گائے، ترجیحاً کالی گائے کی دم پکڑائی جاتی ہے تاکہ مرنے کے بعد اس کی روح خون کا دریا عبور کر کے منصف تک پہنچ سکے۔ گائے کی دم تھامنے سے اس دریا کوعبور کرنے میں آسانی ہوتی ہے، اگر لواحقین ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو متوفی کی روح ان سے انتقام لینے کے لیے بھٹکنے لگتی ہے)۔
کنور سنگھ کے سر کےپاس ایک انگیٹھی رکھی تھی جس میں اُپلےسلگ رہے تھے اور اس کے پاس بیٹھا پنڈت اشلوک پڑھتے ہوئے گھنٹی بجا رہا تھا۔ کمرے میں مرد اور عورتیں ٹھنسے ہوئے تھے اور بین کرتے ہوئے چلا رہے تھے: ‘چلا گیا، چلا گیا!‘ مجھے علم ہے کہ ہندوستان میں ہر روز اسی طرح انسان مرتے ہیں مگر میں نے ایسا نہیں ہونے دینا تھا۔ میں نے جلتی ہوئی انگیٹھی اٹھائی جو میری توقع سے زیادہ گرم تھی اور میرے ہاتھ جل گئے، اور اسے دروازے سے باہر پھینک دیا۔ پھر درخت کی چھال سے بنی رسی کاٹ کر گائے کو باہر نکالا جو وہیں فرش میں گڑے کھونٹےسے بندھی ہوئی تھی۔
میں نے یہ دونوں کام انتہائی خاموشی سے کیے اور سب لوگ مجھے دیکھنے اور سرگوشیاں کرنے لگے۔ جب میں نے پنڈت کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے نکالا تو خاموشی چھا گئی۔ پھر دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے سب کو کمرے سے باہر نکلنے کوکہا جس پر سب نے فوراً اور خاموشی سے عمل کیا۔ اس کمرے سے نکلنے والے افراد کی تعداد ناقابلِ یقین تھی۔ جب کمرہ خالی ہو گیا تو میں نے کنور سنگھ کے بڑے بیٹے کو تازہ اور گرم دودھ کی دو گڑویاں فوراً سے پیشتر لانے کو کہا۔ اس نے حیرتے سے مجھے دیکھا مگر جب میں نے اپنی بات دہرائی تو وہ بھاگ پڑا۔ پھر میں کمرے میں دوبارہ داخل ہوا اور کونے میں کھڑی چٹائی کھول کر کنور سنگھ کو اٹھا کر اس پر رکھا۔
بہت ساری تازہ ہوا کی فوری ضرورت تھی اور میں نے ایک چھوٹی کھڑکی دیکھی جو تختوں سے بند کی گئی تھی۔ میں نے تختے اکھاڑے اور فوراً تازہ ہوا کی گردش شروع ہو گئی جو جنگل سے آ رہی تھی۔ کمرے میں انسانی بو، اپلوں کا دھواں، جلتے گھی اور دیگر خوشبویات کا اثر کم ہونے لگا۔ جب میں نے کنور سنگھ کو اٹھایا تھا تو مجھے علم تھا کہ اس میں بہت تھوڑی جان بچی ہے کہ اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی اور ہونٹ نیلے تھے اور سانس رک رک کرآ رہا تھا۔
تاہم تازہ ہوا سے جلد ہی اس کی حالت بہتر ہونے لگی اور سانس بحال ہونے لگا۔ پھر اس کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ کرمیں نے دروازے کے باہر ہونے والی آوازوں کو سنا جو ‘مقتل گاہ‘ سے نکالے جانے والے لوگوں کی گفتگو تھی کہ مجھے احساس ہوا کہ کنور سنگھ نے آنکھیں کھول لی ہیں۔ سر موڑے بغیر میں نے بولنا شروع کیا: ‘چچا، وقت بدل گیا ہے اور تم بھی بدل گئے ہو۔ ایک وقت تھا جب تمہیں کوئی تمہارے گھر سے نکالنے کے بارے سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور اب تم ملازم کے کمرے میں پڑے موت کے قریب ہو، جیسے تم کوئی کم ذات فقیر ہو۔ اگر تم نے میری بات پر توجہ دی ہوتی اور افیون چھوڑ دی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اگر میں آج آنے میں چند منٹ کی تاخیر بھی کرتا تو اس وقت تم شمشان گھاٹ کو لے جائے جا رہے ہوتے۔ چاندنی چوک کے نمبردار اور پورے کالا ڈھنگی کے بہترین شکاری ہونے کی وجہ سے لوگ تمہاری عزت کرتے تھے۔ اب تمہاری عزت کوئی نہیں کرتا اور جب تم طاقتور تھے تو تم نے ہمیشہ بہترین خوراک کھائی اور اب جیسا کہ تمہارے بیٹے نے بتایا، سولہ دن سے تم نے کچھ نہیں کھایا۔ مگر تم ابھی نہیں مرو گے۔ تم ابھی بہت برس جیو گے اور اگرچہ ہم پھر کبھی شکار پر ایک ساتھ نہیں جا سکیں گے مگر میں اپنا شکار تمہارے ساتھ تقسیم کیا کروں گا۔ اب تم اس کمرے میں مقدس رسی تھامے اور پیپل کا پتہ ہاتھ میں لیے اپنے بڑے بیٹے کے سر کی قسم کھا کر کہو کہ تم اب افیون کے قریب بھی نہیں پھٹکو گے۔ اس بار تم اس قسم کو نہیں توڑو گے۔ اب جتنی دیر میں دودھ آتا ہے، ہم سگریٹ پیئں گے۔‘
جتنی دیر میں بولتا رہا، کنور سنگھ کی نظریں میرے چہرے پر مرکوز رہیں اور پھر پہلی بار وہ بولا: ‘دم توڑتا بندہ کیسے سگریٹ پیے گا؟‘ میں نے جواب دیا: ‘موت کے بارے ہم بعد میں بات کریں گے کہ ابھی نہیں مرو گے۔ سگریٹ کیسے پینی ہے، یہ میں دکھاتا ہوں۔‘ یہ کہہ کر میں نے اپنا سگریٹ کیس کھولا اور دو سگریٹ نکالے۔ پھر ایک سگریٹ جلا کر اس کے ہونٹوں میں دبا دیا۔ اس نے ہلکا سا کش لگایا اور کھانسنے لگا۔ پھر لاغر ہاتھ سے اس نے سگریٹ منہ سے نکالا اور جب کھانسی کا دورہ تھما تو اس نے پھر سگریٹ ہونٹوں میں رکھ کر کش لینے شروع کر دیے۔ ابھی سگریٹ ختم نہیں ہوئے تھے کہ کنور سنگھ کا بیٹا کمرے میں دودھ کی پتیلی لیے داخل ہوا۔ اگر میں بڑھ کر پتیلی تھام نہ لیتا تو حیرت کے مارے اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی ہوتی۔ اس کی حیرت بجا تھی کہ چند منٹ قبل وہ اپنے باپ کو مرتا چھوڑ کر گیا تھا اوراب وہ بستر پر لیٹا سگریٹ پی رہا تھا۔ چونکہ پتیلی سے دودھ پینا ممکن نہیں تھا، اس لیے میں نے اسے پیالہ لانے بھیج دیا۔جب پیالہ آیا تو میں نے کنور سنگھ کو گرم دودھ پلایا۔
میں رات گئے تک اس کمرے میں رکا رہا اور اس دوران کنور سنگھ نے پوری پتیلی دودھ کی پی لی تھی اور گرم بستر میں سکون سے سو رہا تھا۔ نکلنے سے پہلے میں نے اس کے بیٹے سے کہا کہ کسی کو اس کمرے کے قریب بھی نہ پھٹکنے دے اور باپ کے ساتھ بیٹھ جائے۔ جب بھی وہ نیند سے بیدار ہو، اسے دودھ پلاتا رہے۔اگر صبح میری واپسی پر کنور سنگھ زندہ نہ ہوا تو میں پورا گاؤں جلا دوں گا۔ اگلے روز سورج نکلنے والا تھا کہ میں چاندنی چوک پہنچا اور دیکھا کہ باپ بیٹا دونوں گہری نیند سو رہے تھے اور دودھ کی پتیلی خالی تھی۔ کنور سنگھ نے اپنے وعدے کا پاس رکھا اور اگرچہ وہ کبھی اتنی طاقت نہ پا سکاکہ شکار کو جا پاتا، مگر وہ اکثر میرے پاس آتا رہا اور چار سال بعد اپنے گھر اور اپنے بستر میں فوت ہوا۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے