کمالِ محبت زوالِ محبت

کمالِ محبت زوالِ محبت
بدن کی طلب اِبتِذَالِ محبت
محبت ہےخوشبومحبت عبادت
ہےچاہت مسلسل جمالِ محبت
ہےکُن کا نتیجہ کہ دنیابنی ہے
خُدا کو بھی آیا خیالِ محبت
زمیں حسن کاپھرگھرانہ بنےگی
مُیَسّر ہوٸے گر رجالِ محبت
کروختم نفرت محبت ہی بانٹو
بکھیرو یہاں تم گُلالِ محبت
فراقِ محبت کا اپنا نشہ ہے
ضروری نہیں ہے وصالِ محبت
خُدا بخش دے گا بروزِ قیامت
ہے عاجز یہی تو جلالِ محبت
ڈاکٹر محمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے