کماں بردوش و آہن پوش رہتا ​

کماں بردوش و آہن پوش رہتا ​
تو کیا میں اس طرح خاموش رہتا​

نہ رہتا میں، اگر میری رگوں میں​
لہو رہتا، لہو میں جوش رہتا​

تو کیا اُس بے مروت کے لئے میں​
قیامت تک تہی آغوش رہتا​

کہاں رہتا، اگر افسانہ ء دل​
نہ مابینِ زبان و گوش رہتا​

خبر ہوتی کہ یوں چھپتا پھروں گا​
تو اپنے آپ میں روپوش رہتا​

انور شعور​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے