کماکے جو بھی لاتا ہے

کماکے جو بھی لاتا ہے وہ گھر پہ وار دیتا ہے
کرائے دار کو گھر کا کرایہ مار دیتا ہے

تجھے معلوم ہے نا ہم کسی سے لڑ نہیں سکتے
ہمارے ہاتھ میں پھر کس لیے تلوار دیتا ہے

کسی کو گالیاں دینا شریفوں کا نہیں شیوہ
جو ہوتا ہے برا گالی وہی بدکار دیتا ہے

مجھے پکا یقیں ہے میں ترقی پاؤں گا اک دن
دعائیں رات دن مجھ کو مرا دلدار دیتا ہے

بہت تکلیف ہوتی ہے بہت روتا ہے دل غضنی
وفاؤں کے عوض دھوکا کوئی جب یار دیتا ہے

غضنفر غضنی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

5 comments

Wajahat Iqbal کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے