فروری 5, 2023
icon urdu
ایک غزل از شہلا خان یوسف زئی

کم سے کم ساتھ چل رہا ہے وہ
یعنی پرچھائیں کی طرح ہو وہ

اب یہ دیوار کون دیکھے گا
اب تو تصویر ہو گیا ہے وہ

موسلا دھار بارشوں کے دن
اور مجھے یاد آرہا ہے وہ

اپنی بے چہرگی سے واقف ہے
جو سمجھتا ہے آئنہ ہے وہ

اب مجھے کچھ نظر نہیں آنا
سامنے سے گزر گیا ہے وہ

وہ جو تکمیل کر کے چھوڑے گا
ذات کا کھوکھلا خلا ہے وہ

تاکہ میں ڈھونڈتی رہوں اسکو
ایک مدت سے لاپتہ ہے وہ

زندگی ہجر میں گزاری ہے؟
یا یونہی پل بنا رہا ہے وہ؟

پھر ارادوں کو توڑ بیٹھا ہے
یار خود اپنا مسئلہ ہے وہ

بھولنا مت حسین اسکا ہے
یاد رکھنا حسین کا ہے وہ

شہلا خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے