کلفت جاں سے دور دور، رنج و ملال سے جدا

کلفت جاں سے دور دور، رنج و ملال سے جدا
ہم نے تجھے رکھا، ہر ایک صورت حال سے جدا
آج نگاہ اور تھی، اور نگاہ سرد میں
ایک جواب اور تھا، میرے سوال سے جدا
شام اداس،پھول زرد،شمع خموش، دل حزیں
کوئی رہا تھا تھوڑی دیر بزم جمال سے جدا
ہم میں بھی کوئی رنگ ہو ذوق نظر کے ساتھ ساتھ
تم میں بھی کوئی بات ہو، شوق وصال سے جدا
تم کو نہ کچھ خبر ہوئی، آمد و رفت ہجر کی
خانۂ عشق میں رہے، ایسے کمال سے جدا
کیسی عجب ہوا چلی،ایک ہوئے ہیں باغ و دشت
گل سے خفا ہے بوئے گل، رم ہے غزال سے جدا
دھند میں اور دھوپ میں،نیند میں اور خواب میں
ہم تھے مثیل سے الگ ، ہم تھے مثال سے جد
 ثمینہ راجہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے