کالموں میں لکھے جانے والے غلط اشعار کا تعاقب

کالموں میں لکھے جانے والے غلط اشعار کا تعاقب
” چند اشعار کی صحت“
اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے کالموں میں اشعار کے ذریعے ندرت پیدا کرنا قاری کے لطف کو دوبالا کر دیتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ غلط اور بے وزن اشعار سارا مزہ کِرکِرا کر دیتے ہیں۔بعض اشعار تو اتنے تواتر کے ساتھ غلط لکھے جانے لگے ہیں کہ لوگوں کے اذہان سے اصل اشعار بالکل ہی محو ہو کر رہ گئے ہیں۔یقیناً غلطیوں سے مبرّا کوئی بھی شخص نہیں ہوتا اور کالموں میں غلطیوں کی گنجایش بھی زیادہ ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کالم عجلت میں لکھے جاتے ہیں لیکن اگر اپنی تحریروں میں اشعار لکھتے وقت تھوڑی سی بھی چھان پھٹک کر لی جائے تو اس قسم کی اغلاط سے بچا جا سکتا ہے۔
11 اپریل 2020 کے روزنامہ جنگ میں ڈاکٹر صغرا صدف صاحبہ نے غالب کا ایک شعر یوں لکھا ہے۔
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بھی بے مزا نہ ہوا
شعر کا دوسرا مصرع غلط ہے اور اسی غلط مصرعے کو کالم کا عنوان بھی بنا دیا گیا ہے۔ڈاکٹر صغرا صدف صاحبہ نے دوسرے مصرعے میں” بھی “کا اضافہ کر کے رقیب کے ساتھ ساتھ شعر کو بھی بے مزہ کر دیا ہے۔دراصل غالب کا یہ شعر اس طرح ہے۔
کتنے شیریں ہیں تیرے لب، کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
جناب سعید آسی میرے پسندیدہ کالم نگار ہیں۔وہ خود ایک بہت اچھے شاعر بھی ہیں۔روزنامہ نوائے وقت میں انھوں نے ایک شعر یوں تحریر کیا ہے۔
اسی کا شہر، وہی مدعی، وہی منصف
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
دراصل یہ دونوں مصرعے دو الگ الگ اشعار سے تعلق رکھتے ہیں اور اِن کے شاعر بھی الگ ہیں۔پہلا مصرع امیر قزلباش کے اس شعر کا ہے۔
اُسی کا شہر، وہی مدّعی، وہی منصف
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا
جب کہ دوسرا مصرع فیض احمد فیض کے اس شعر کا ہے۔
بنے ہیں اہلِ ہوس مدّعی بھی، منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
حافظ شفیق الرحمان صاحب نہایت منجھے ہوئے کالم نگار ہیں۔ادبی انداز میں کالم تحریر کرنا آں جناب کا طرّہ ء امتیاز ہے۔16 اپریل 2020 کے روزنامہ خبریں میں ایک شعر یوں لکھا ہے۔
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے ہو غرور، آئے کرے شکار مجھے
مصطفی خان شیفتہ کے اس شعر کا دوسرا مصرع کچھ یوں ہے۔
جسے غرور ہو، آئے کرے شکار مجھے
حافظ شفیق الرحمان صاحب نے ہی اپنے 29 اپریل کے کالم میں ایک شعر اس طرح تحریر کیا ہے۔
یہ ہستیاں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
اس شعر کے خالق محمد رفیع سودا ہیں۔کلیاتِ سودا مطبوعہ 1932 منشی نو لِکشور لکھنؤ کے مطابق پہلے مصرعے میں” وہ“ کی جگہ” وے“ ” ہستیاں “کی بجائے” صورتیں“ اور” دیس“ کی جگہ” مُلک“ ہے۔اصل شعر ملاحظہ کیجیے۔
وے صورتیں الٰہی کس مُلک بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
اگرچہ آج کل ہم واحد اور جمع دونوں کے لیے لفظ” وے“ کی بجائے” وہ “استعمال کرتے ہیں مگر اشعار میں اس قسم کی تحریف” مکروہِ تحریمی“ کے زمرے میں آتی ہے سو ہم اپنی مرضی نہیں کر سکتے۔سودا کا یہی کلام عابدہ پروین نے گایا ہے انھوں نے بھی پہلے مصرعے میں لفظ ” مُلک“ کی بجائے” دیس“ استعمال کرنے کی غلطی کی ہے اور دوسرے مصرعے کی ترتیب میں بھی گڑبڑ پیدا کی ہے۔
20 اپریل کے روزنامہ نوائے وقت میں عزیز ظفر آزاد کا مضمون شائع ہوا ہے۔مضمون میں حضرت علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کے تمام اشعار کو بے وزن کر کے لکھا گیا ہے۔ایک مصرع یوں تحریر کیا گیا ہے۔
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خود کشی کرے گی
جب کہ درست مصرع یوں ہے۔
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
مضمون میں اسی شعر کا دوسرا مصرع اس طرح موجود ہے۔
جو شاخ نازک پر آشیانہ بنے گا نہ پائیدار ہو گا
جب کہ شعر میں” پر“ کی جگہ” پہ“ اور” نہ پائیدار “کی جگہ” ناپایدار“ ہے۔شاید صاحبِ مضمون کو” نہ“ اور” نا“ کے فرق کا علم ہی نہیں۔عزیز ظفر آزاد نے اپنے مضمون میں حضرت علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کے شعر کا ایک اور مصرع یوں لکھا ہے۔
نظر کو خیرہ کرتی ہے تہذیب حاضر کی
مصرع صرف بے وزن ہی نہیں گیا ہے بلکہ معنی و مفہوم سے عاری بھی کر دیا گیا ہے۔میں اسے کتابت کی غلطی تصوّر کر لیتا اگر باقی اشعار درست لکھے گئے ہوتے۔
درست مصرع اس طرح ہے
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یکم مئی 2020 کے نوائے وقت میں سرِراہے کے مدیر نے غالب کا شعر یوں تحریر کیا ہے۔
جان تم پہ نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا وفا کیا ہے
جب کہ دیوانِ غالب میں” پہ“ کی جگہ” پر “اور” وفا“ کی جگہ” دُعا“ لکھا ہے۔اسی غزل کے جس شعر میں وفا کا ذکر ہے وہ یہ ہے۔
ہم کو اُن سے وفا کی ہے امّید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
یکم مئی کے روزنامہ 92 نیوز میں عمر قاضی نے غالب کا یہ شعر بے وزن کر دیا۔
دیکھیے پاتے ہیں عشق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
غالب کے اس شعر میں” عشق “کی جگہ” عُشّاق“ کا لفظ ہے۔
رانا اعجاز حسین کا ایک مضمون 21 اپریل کو نظروں سے گزرا۔مضمون میں حضرت علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کے تین اشعار استعمال کیے گئے ہیں مگر افسوس کہ تینوں ہی غلط تحریر کیے گئے ہیں۔پہلا شعر یوں لکھا گیا ہے۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
شعر کے پہلے مصرعے میں” وہ “کی جگہ” یہ “اور دوسرے مصرعے میں” سجدوں“ کی بجائے” سجدے“ کا لفظ ہے سو درست شعر یوں ہُوا
یہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
ایک اور شعر اس طرح لکھا گیا ہے۔
سبق پڑھ صداقت کا، شجاعت کا، عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
پہلا مصرع نہ صرف بحر سے خارج ہے بلکہ ترتیب بھی غلط لکھ دی گئی ہے
ملاحظہ کیجیے درست شعر۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
ویسے تو کسی بھی شاعر کے اشعار کو غلط لکھ دینا” ادبی گناہ“ ہے مگر یاد رکھیے کہ کلاسیکل شعرا اور حضرت علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کے اشعار کو غلط لکھنا تو” ادبی گناہِ کبیرہ“ کے مترادف ہے۔
حیات عبداللہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے