قلاش گو زمین پہ مجھ سا کوئی نہیں​

قلاش گو زمین پہ مجھ سا کوئی نہیں​
پیتا ہوں زہرِ گُر سنگی، تشنگی نہیں​

ویسے تو اس جہان کی رونق میں کیا کلام​
جس کے لئے یہ بزم سجی تھی، وہی نہیں​

ہمدرد و ہم مزاج میں کیا فرق ہے نہ پوچھ​
دکھ بانٹنے کو گھر میں سبھی ہیں، سبھی نہیں​

پلکوں کی چلمنوں سے ہیں آنکھیں ڈھکی ہوئی​
کیا ہے، بہن کے سر پہ اگر اوڑھنی نہیں​

دنیا میں کوئی حال ہو، کُڑھنے سے فائدہ؟​
دل کو یہاں سکون کبھی ہے، کبھی نہیں​

تھکتا نہ تھا جو بولتے، آج اس شعور کو​
ایسی لگی ہے چُپ کہ نہ جی ہاں، نہ جی نہیں​

انور شعور​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے