کل بزم کہکشاں میں ستاروں کی بھیڑ تھی

کل بزم کہکشاں میں ستاروں کی بھیڑ تھی
جلوے نظر نظر تھےنظاروں کی بھیڑ تھی
پھولوں کا انتخاب تھا خاروں کی بھیڑ تھی
عشرت کدے میں کرب کے ماروں کی بھیڑ تھی
صحرا نو ہیں وہ فریب نظر کے ساتھ
کل جن گلستاں میں بہاروں کی بھیڑ تھی
ہم کس طرح بچاتے سفینہ حیات کا
طوفاں بدوش موجوں میں دھاروں کی بھیڑ تھی
تنہا ہر ایک شخص تھا میری نگاہ میں
جس انجمن میں رات ہزاروں کی بھیڑ تھی
اس میکدے کا کس نے یہ نقشہ بدل دیا ۔
جس میکدے میں بادہ گساروں کی بھیڑ تھی
بے دست پا ہے آج وہ خود اپنی راہ میں
کل جن کے ہر قدم پہ سہاروں کی بھیڑ تھی
احساس کی تپش سے جھلستی رہی حیات
شعلوں کا رقص تھا نہ شراروں کی بھیڑ تھی
چشمہ نصیب ہوتی ہمیں کس طرح خوشی
محفل میں درد عشق کے ماروں کی بھیڑ تھی
چشمہ فاروقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے