کہو تو لکھوں

کہو تو لکھوں

طویل مُدت کے بعد تیرا

یہ خط مِلا ہے

اور اس میں تو نے یہی لکھا ہے

کہاں رہے تم

کہو تو لکھوں؟

بیاضِ حسرت جو لوحِ دل کو سوار کرکے

عدو کے ساحل پہ آرکا ہے

کہاں سے آیا

کہاں سے لکھوں

جو بے ریا تھا وہ زورِ مے سے خود اپنے سینے

کے زنگ آلود اور خستہ کیواڑ کھلنے کا منتظر تھا

سو کھُل گئے وہ

اور اب یہ عالم

کہ صبحِ تازہ میں ایک تاریک ازل بھی اُبھرا

پھر اس نے موہوم شہر و قریہ کے پست و بالا میں

ہر گلی میں ہرایک در پہ وہ خواب تھوکے

جو میری کھڑکی سے جھانکتے تھے

خمار ٹوٹا ، جنون بکھرا ، سکوت چھلکا

تو واہموں کا لباس اترا

سو میں نے اپنا بدن لپیٹا

اور ایک انجانی رہگزر پر نکل پڑا میں

تو پھر ہوا یوں

ابد کے آغوش میں

سماوی خرام لمحے جو موجِ زر کی تلاش میں تھے

وہ سطحِ دریا پہ ایسے آئے

کہ جیسے اپنے سفینہ گر کی ہی تمکنت میں

تمام مشعل بکف ستاروں کو ساتھ لےکر

افق کے متوازی چل رہے ہوں

میں ان ستاروں میں رہ چکا ہوں

اور اب کہاں ہوں

کہو تو لکھوں ؟

 

عمران سیفی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے