کہیں گے تم سے نہ دوستوں کو خبر کریں گے

کہیں گے تم سے نہ دوستوں کو خبر کریں گے
ہم اپنے حصے میں آئے غم خود بسر کریں گے

اِسی لیے تو چھپا کے رکھے تھے خواب سب سے
میں جانتا تھا یہ تیری آنکھوں میں گھر کریں گے

ہمارے یاروں کا قافلہ پیچھے رہ گیا ہے
اَب اِس سے آگے ہم الٹے پاؤں سفر کریں گے

یہ طے ہوا تھا کہ جیسے سب لوگ کر رہے ہیں
محبت ایسے نہیں کریں گے، اگر کریں گے

مجھے لگا تھا مگر مجھے یہ غلط لگا تھا
کہ میرے بوسے ترے بدن پہ اثر کریں گے

تری محبت نے ظرف بخشا ہے سعد ضیغم
تو دشمنی بھی کرے تو ہم در گزر کریں گے

سعد ضؔیغم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے