کہیں زمیں تو کہیں آسماں پسند کیا

کہیں زمیں تو کہیں آسماں پسند کیا
سفر پسند تھے رکنا کہاں پسند کیا

چراغ اور کسی قافلے کے ساتھ گئے
ہوا نے اور کوئی کارواں پسند کیا

وہ کیا پرند تھے ہجرت میں کٹ گئی جن کی
نہ سبز شاخ نہ آبِ رواں پسند کیا

بچھڑ کے تجھ سے کسی سے نہ راہ و رسم رہی
کسی سے دل نے بھی ملنا کہاں پسند کیا

فقیر لوگ تھے نام و نمود سے بیزار
نہ عزّو جاہ نہ نام و نشاں پسند کیا

دیے کی لو سے لرزتے تھے تیرہ زاد سبھی
بجھے چراغ کا سب نے دھواں پسند کیا

جو کج سخن تھے وہ خائف تھے میرے لہجے سے
سخن وروں نے تو حسن ِ زباں پسند کیا

حیات و موت کے مابین کشمکش میں تھا
اور اس نے مجھ کو اسی درمیاں پسند کیا

مثال ِ موجہ ء بادِ رواں تھے ہم ارشاد
سو ہم نے مسلکِ آوارگاں پسند کیا

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے