کہیں دیر نہ ہو جاۓ

کہیں دیر نہ ہو جاۓ
یہ سچ ہے کہ اُفتاد اور مصائب مُشترکہ مفادات کے حامل لوگوں کے ظرف اور حوصلے کا ایسا امتحان ہوتے ہیں کہ جن سے اُن کے مسقبل اور آئیندہ کے باہمی تعلقات کا تعین کیا جاتا ہے۔ خوشیاں ، آسودگی اور باالخصوص مادی وسائل کی فراوانی عموماً ہم انسانوں کے اندر چُھپے منفی جذبات کو منکشف نہیں ہونے دیتیں۔ رزق کی بہتات اور آسانی سے اشیاۓ ضرورت کی فراہمی اکثر ہمارے اندر کے لالچ اور ہوس کو دباۓ رکھتی ہے۔ مگر جب وسائل محدود ہوں اور اشیاۓ ضرورت کو مل بانٹ کر استعمال کرنا مقصود ہو تو اکثر بہت قریبی رشتے بھی تجزیے اور موازنے کرتے دکھائ دیتے ہیں ۔
بہن بھائ بھی اپنی جبّلی خامیوں کا کھلے عام اظہار اور تذکرہ کرتے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ ہم انسان بنیادی طور پر اپنی ذات سے متعلق کسی بھی مفاد سے دستبردار نہیں ہونا چاہتے۔ حالانکہ انسانی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسان اس کرہ ارض پر وہ واحد جاندار مخلوق ہے جو بلا تامل بدلتے ہوۓ حالات اور ماحول کے مطابق اپنی ضروریات کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب تک کوئ شخص بے بس نہیں ہو جاتا یا اُسے کسی شئے کا حصول نا ممکن نہ لگے وہ اپنی اس صلاحیت کو کبھی بخوشی بروۓ کار نہیں لاتا۔
یہی ایک معمولی اور باریک سا فرق ہے کسی تہذیب یافتہ اور مہذب انسان میں کہ وہ بے بسی یا کسی فطری مجبوری کی بنا پر نہیں بلکہ برضا و رغبت کسی دوسرے کو راحت اور اُس کی ضرورت کی تکمیل کیلئے اپنے مفادات کو پسِ پشت ڈال کر مدد اور ایثار جسے خوبصورت عمل کا ارتکاب کرتا ہے اور اپنے حصے میں آیا رزق ہو یا اسائش کسی دوسرے سے بانٹ کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ ہم بھی آجکل اِسی ابتلا اور پریشانی کے تکلیف دہ اور تاریک دور سے نبرد آزما ہیں۔ ہماری ضرورتوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو کسی حد تک ہمارے زندگی گزارنے کے مروجہ اطوار کے عین مطابق بھی ہوگی۔ ہمارے پاس اشیاء کی بہتات اور اُن کے استعمال کیلئے بہت سے مستند دلائل اور جواز بھی ہونگے۔ مگر اس سب کے باوجود ہم سب زندہ انسانوں کی زندگی کی میں یہ سب سے کربناک عہد ہے جو اس سے پہلے شائد کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بیچارگی اور بے بسی ہوگی کہ ہم جو قرب کے متمنی ہیں ، دوریوں کے داعی بن کر رہ گئے ہیں۔ ہم ساتھ رہ کر بھی اجنبیت کے دہکتے الاؤ میں جل رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی کڑی سزا ہے کہ ہمیں سب کچھ عطا کر کے ہمیں اُس کے استعمال سے روک دیا گیا۔
یقین کیجیئے شائد اس کے بعد کوئ بہت بڑی تباہی یا ” کھڑ کھڑانے والی” ہی ہماری منتظر ہو۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب یکجا ہو کر انسانیت کی بقا اور حقیقی استحکام کیلئے سرگرمِ عمل ہو جائیں۔ اگرایک روٹی سے گزارا ہو سکتا ہے تو دوسری کسی ایسے سفید پوش یا مجبور کو دی جا سکتی ہے جسے حالات نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ہمارے اختلافات بہت حد تک حقیقی ہی سہی مگر اُنہیں بُھلا کر آئیندہ کسی مناسب وقت تک ملتوی کرنا ہوگا۔ تنقید اور دل آزاری کو بھول کر پیار و محبت اور ڈھارس و دلجوئ کے دیپ روشن کرنا ہونگے۔ کوئ کیا کر رہا ہے، کیسے کر رہا ہے؟ اُس کے پسِ پردہ محرکات کیا ہیں اس سے بالا تر ہو کر اِس آفت سے چھٹکارہ پانے کیلۓ اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ سانسوں کی سب سے بڑی خامی حدّت ہے اور یہ جب تک چلتی ہیں ان کی آنچ سے کوئ نہ کوئ ضرور پِگھلا ہوتا ہے مگر ہمیں اس وقت اُس حدت کو ، اُس آنچ کو درگزر اور فراموش کرنا ہوگا اور محبت کی مہکتی اور خوشگوار مخملی فضاؤں کو ایثار اور یگانگت سے فروغ دینا ہے۔ ہمیں خود سے منسلک لوگوں باالخصوص وضع دار اور سفید پوش لوگوں سے جُڑے رہنا ہے تاکہ کہیں اُن کی وضعداری اور عزتِ نفس اُن کو ہم سے ہمیشہ کیلئے دور نہ لے جاۓ۔ یقین کیجیئے کہ انسان ہر بڑی سے بڑی سزا جھیل سکتا ہے مگر پچھتاوں کی سزا جھیلنا اُس کیلئے ممکن ہی نہیں۔
محبوب صابر
11 اپریل 2020
سیالکوٹ۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے