کہاں حالات پر کچھ بس ہمارا چل رہا ہے

کہاں حالات پر کچھ بس ہمارا چل رہا ہے
غنیمت جانئیے جوں توں گزارا چل رہا ہے
خدا نے وقت کو کیسی کڑی مشکل میں ڈالا
برا اچھا بہر صورت بے چارہ چل رہا ہے
فرشتوں نے دلیلیں دیں بنی آدم کے حق میں
سو اپنا نام جنت میں دوبارہ چل رہا ہے
خوشامد ، دوغلا پن ، سازشیں ، تہمت ، سیاست
کمینی سوچ سے اعلی ادارہ چل رہا ہے
نہ پوچھو رات دن کا حال میرے غم گسارو
خسارہ چل رہا تھا اور خسارہ چل رہا ہے
شبِ غم ساکت و بےحس پڑی ہے سانس روکے
اُدھر افلاک پر اک آدھ تارا چل رہا ہے
خدائی کارخانہ بھی یونہی چلتا ہے پیارے
کہ جیسے یہ جہاں سارے کا سارا چل رہا ہے
صائمہ آفتاب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے