کافی تھا یہ کہنا ہی

کافی تھا یہ کہنا ہی
دل تو مانگے تجھ سا ہی
جگنو میری مٹھی میں
پل دو پل تو رہتا ہی
لوگ پلٹ بھی آتے ہیں
تھا تو وہ بھی ایسا ہی
ہاتھ چھڑانے سے پہلے
کچھ تو اُس نے سوچا ہی
آنسو میرے تھمنے دو
روکا تھا بس اتنا ہی
یوں بے مقصد جینے سے
بہتر تھا مر جانا ہی
بے شک آنا مشکل تھا
رستے میں تو ملتا ہی
اس کا ملنا قسمت میں
ہوتا تو مل جاتا ہی
ناصر بھول بھلیاں ہیں
عشق ، ریاضت ، آگاہی
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے