Kadwi Misri

کڑوی مسری

اسے سب اسی نام سے بلاتے تھے۔ سچ مچ وہ تھی بھی بالکل ویسی۔ گوری تو اس کے اتنے خاندان بھر میں کوئی لڑکی نہیں تھی۔ بھورے بھورے، ہلکے گھونگرالے بال، اس کے پان جیسے چہرے کو گھیرے رہتے۔ کالی آنکھیں جن کے چاروں طرف گھنی سیاہ پلکیں تھیں، جیسے گہری پہاڑی جھیل کو دیودار کے گھنے پیڑ گھیرے ہوں۔ گلابی ہونٹ جو ہمیشہ ہنستے، مسکراتے رہتے، نرم اور نازک جسم کہ ہر کوئی اسے گود میں بھر لینے کے لیے بیقرار رہتا۔ اتنی پیاری اور دلکش بچی کو اگر سب مسری کی ڈلی کہتے تھے تو کیا غلط کرتے تھے؟

بچی تھی تو سمجھتی نہیں تھی۔ جب سمجھ میں آنے لگا تو اس نام پر اتراتی، لجاتی، کبھی کبھی خفا بھی ہوتی۔ اتنی ادائیں دکھاتی کہ یہ نام اور بھی اس کے ساتھ جڑ جاتا۔ دراصل یہ نام اس کے ابّا نے دیا تھا۔ وہ باہر جانے سے پہلے اسے آواز دیتے، ’مسری کی ڈلی!‘ اور وہ ان کا رومال اور چھڑی لے کر دوڑتی۔ گھر میں گھستے تو پھر پکارتے اور وہ ان کے لیے پانی اور پان کا خاسدان لیے سامنے حاضر رہتی اور ان کی اُتری ہوئی شیروانی یا صدری لینے کھڑی رہتی۔ خاندان بھر کے لوگ اپنی لڑکیوں کو اس کی مثال دے کر ڈانٹتے، ”ارے ذرا مسری کی ڈلی سے کچھ سیکھو۔ جیسی صورت ہے ویسی ہی سیرت ہے، ایسی فرمانبردار بیٹی تو نصیبوں سے ملتی ہے۔ بچپن سے ہی باپ کی ایسی لاڈلی ہے، پر مجال ہے جو ذرا بھی سرچڑھی ہو۔ نہ کبھی اونچی آواز میں بولنا، نہ کسی سے لڑنا جھگڑنا، نہ کبھی ضد، نہ رتّی برابر اپنے حسن کا غرور! نوکروں سے بھی ایسے بات کرتی ہے جیسے کانوں میں مسری گھول رہی ہو۔ ارے اسی کو ہی تو کہتے ہیں شریف زادی۔“

سب کی لاڈلی، سب کی پیاری، مسری کی ڈلی۔ کوئی اپنے نام پر اتنا کھرا نہیں اترتا ہوگا۔ چوٹی گوتھ کر کندھے سے پیچھے پھینکی۔ آنکھوں میں لگا صبح کا کاجل ذرا ہلکا پڑ گیا تھا۔ سرمے کی سلائی پھر سے آنکھوں میں پھیری اور جوتیوں میں پیر ڈالنے سے پہلے امّی کے کمرے میں جھانکی۔ اس کی امی تیار ہوکر چادر اوڑھ رہی تھیں۔ اس نے جلدی سے جھک کر پلنگ کے نیچے سے ان کی چپل نکال کر ان کے پیروں کے آگے رکھی اور ان کی ’جان سے زیادہ چاہنے والا، چاند سا دولہا ملے‘ جیسی دعاؤں پر خوشی سے مسکراتی، جوتیاں پہن کر، ان کے کمرے سے باہر آنے سے پہلے ساتھ آکر کھڑی ہوگئی۔
دونوں کو اس کی بڑی خالہ کے یہاں جانا تھا۔ جانا کیا، بس دو آنگن اور ایک برآمدہ پار کرکے، حویلی کے پچھلے طرف جانا تھا۔ بڑی خالہ بھی تو اسی خاندان میں بیاہی تھیں۔ بیچاری بڑی جلدی بیوہ ہوگئی تھیں اور بے اولاد بھی تھیں۔ اسی وجہ سے ہر مہینے گھر پر میلاد کروایا کرتی تھیں۔ ساری حویلی کی عورتیں جمع ہوتیں۔ زیادہ تر اس وجہ سے کہ ان کے یہاں میلاد کے تبرک میں شیرمال اور کباب بنٹتے تھے، جس سے ایک دن چولہا جلانے اور روٹیاں تھوپنے سے سب عورتوں کو نجات مل جاتی تھی۔ پچھلے تین مہینے سے مسری کی ڈلی دسویں کے امتحان میں مصروف تھی اور میلاد میں نہیں آسکی تھی۔ اس بار بڑی خالہ نے امی سے خاص کہہ کر اسے بلایا تھا۔

حویلی کیا تھی، پورا محلہ تھی۔ کم سے کم سو سوا سو گھر، اس کی چہاردیواری کے اندر آباد تھے، یوں تو کئی اکائیوں کے پاس ڈیڑھ کمرے سے زیادہ نہیں تھا، پھر بھی کہنے کو تو تھاکہ حویلی کے رہنے والے ہیں۔ ان کا درجہ باقی شہر سے کہیں اونچا تھا۔ ہوتا بھی کیوں نہ۔ پورے ٹونک میں دس بارہ تو ایسی حویلیاں تھیں، جن کی اونچی چہاردیواری کے تلے اور گگن چمبی برجیوں کے سائے میں باقی شہر بستا تھا۔ حویلیوں کے اندر بھی سخت پردہ رہتا اور باہر تو خیر وہا ں کی عورتوں کو آتے جاتے کسی نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ بڑا دروازہ کھل جاتا اور پرانے زمانے میں بند پالکیاں اور اب پردہ لگی موٹریں اور جیپیں اندر آجاتیں اور دروازہ بند ہوجاتا۔ نہ کوئی ان عورتوں کی گنتی کرسکتا تھا، نہ عمر بھانپ سکتا، شکل اور کپڑے دیکھنا تو دور کی بات۔ مسری کی ڈلی بھی دس برس کی عمر سے پردہ کرتی تھی۔ آٹھویں کا بورڈ کا امتحان اور اب دسویں کا بھی اس نے پرائیویٹ دیا تھا۔

امی کے پیچھے پیچھے وہ خالہ امی کے گھر پہنچی۔ دریاں بچھ چکی تھیں۔ ان کے اوپر سفید چاندنیاں بچھائی جارہی تھیں۔ ایک طرف کو جوتیاں اُتار کر وہ چادریں بچھانے میں مدد کرنے کو بڑھ ہی رہی تھی کہ خالہ امی نے آواز دی، ”ارے پہلے میرے گلے تو لگ مسری کی ڈلی۔ اس سونے ویران جیون کی تو تو ہی مٹھاس ہے۔“ پھر اسے اپنے پاس بٹھاکر ایسے دُلارنے لگی جیسے وہ ایک ننھی سی بچی ہو۔
دھیرے دھیرے ساری عورتیں جمع ہوگئیں اور میلاد شروع ہوا۔ مسری کی ڈلی کی ایک چچی بہت اچھا میلاد پڑھتی تھی۔ ایسا سماں باندھتی کہ سننے والوں کے سارے امام، پیغمبر، فرشتے اور حوریں آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگتیں۔ وہ، مسری کی ڈلی کے نانا کا لکھا ہوا ایک میلاد پڑھ رہی تھیں، جس میں اس زمین کے گنہگاروں کو قیامت کے دن کن سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا، کیسی کیسی آفتوں سے جوجھنا پڑے گا، اس کا ذکر تھا۔

مسری کی ڈلی باقاعدگی سے بیٹھ گئی اور سلیقے سے سر سے دوپٹہ اوڑھ کر سننے لگی۔ چچی پڑھ کر سنا رہی تھیں — ایک بڑی ہی نیک روح جنت میں رہتی تھی۔ اس نے زمین پر جسمانی ہستی میں اتنی اچھائیوں، نیکیاں اور اللہ کے حکم پر اتنی باقاعدگی سے عمل کیا تھا کہ وہ سیدھی ہی جنت میں داخل ہوسکی تھی۔ دوزخ کیا ہے، اس کے بارے میں اس نے دھرم گرنتھوں سے جان تو لیا تھا، لیکن خود اپنی آنکھوں سے دوزخ میں کیا ہوتا ہے، یہ دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ جب کوئی روح جہنم بھیجی جاتی ہے تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اس نے جبریل نام کے فرشتے سے گزارش کی، کہ ایک بار وہ اسے دوزخ کی سیر کرالائیں۔ جبریل تھوڑی بہت آناکانی کے بعد راضی ہوگئے اور اسے دوزخ لے چلے۔

دوزخ میں جو اس نے دیکھا تو دہشت کے مارے تھرتھرا گئی۔ جن عورتوں نے اپنی زندگی میں جھوٹ بولے تھے، ان کی زبانیں کاٹی جارہی تھیں، جنھو نے اپنے شوہر کی اجازت کے بنا گھر کے باہر قدم رکھا تھا ان کی ٹانگیں کولہو میں ڈال کر پیسی جارہی تھیں دوزخ میں جو اس نے دیکھا تو دہشت کے مارے تھرتھرا گئی۔ جن عورتوں نے اپنی زندگی میں جھوٹ بولے تھے، ان کی زبانیں کاٹی جارہی تھیں، جنھو نے اپنے شوہر کی اجازت کے بنا گھر کے باہر قدم رکھا تھا ان کی ٹانگیں کولہو میں ڈال کر پیسی جارہی تھیں، جنھوں نے اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور مرد کے پیار بھرے الفاظ سنے ان کے کانوں میں گرم سیسہ ڈالا جارہا تھا، جنھوں نے شوہر یا اپنے بزرگوں کے سامنے نظر نیچی نہیں کی تھی، ان کی آنکھوں میں سوئیاں چبھائی جارہی تھیں، جنھوں نے پرائے مردوں کے ساتھ آنکھ ملائی تھی ان کی آنکھوں میں سلاخیں گھسائی جارہی تھیں، جنھوں نے کبھی بھی اونچی آواز میں شوہر یا بزرگوں سے بات کی، چغل خوری کی یا زبان درازی کی، ان کے گلے میں زنجیر ڈال کر، کھینچا اور کسا جارہا تھا، جن عورتوں نے پرائے مردوں کے سامنے اپنا چہرہ دکھایا تھا وہ اب منھ چھپائے گھوم رہی تھیں، کیونکہ ان کے چہروں پر تیزاب ڈال دیا گیا تھا۔ عورتوں کی ناکیں کاٹی جارہی تھیں، ان کے بال جلائے جارہے تھے، ان کے ہاتھ سرخ، لال توے پر رکھے جارہے تھے، جسم داغا جارہا تھا۔ عورتوں کے ساتھ …… عورتوں …… یہ بار بار کانوں میں پڑتے پڑتے اس کا سر جھنجھناکر پھٹ پڑا۔
اچانک سنّاٹا ہوجانے پر مسری کی ڈلی چونکی۔ ساری عورتیں عجیب نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھیں۔ اس نے دھیرے دھیرے، ایک ایک لفظ ناپ تول کر اپنا چیخا ہوا سوال پھر دہرایا — ”صرف عورتوں کو ہی سزا کیوں مل رہی تھی؟ گناہ تو مرد بھی کرتے ہی ہیں۔ پھر وہ کہاں سزا پاتے ہیں؟“

ساری عورتیں چپ! سب اسے گھور رہی تھیں۔ آخر میلاد پڑھ رہی چچی ہی بولیں، ’اے ہوگی کوئی اور اللہ ماری جگہ۔ ہمیں اس سے بھلا کیا سروکار؟“
مسری یہ میلاد اور ایسے کئی میلاد پہلے بھی سن چکی تھی۔ پھر بھی اسے نہ جانے کیا ضد سوار ہوگئی تھی۔ پلٹ کر بولی، ”چچی، یہ تو کوئی جواب نہ ہوا۔ کیوں سارے گناہ عورتوں کے ہی سر جائیں، کیوں عورتیں ہی سزا پائیں؟“
اس کی امّی نے ڈانٹتے ہوئے کہا — ”چپ رہو مسری کی ڈلی! یہ میلاد تمہارے نانا مرحوم کا لکھا ہوا ہے۔ وہ کوئی غلط تھوڑی لکھیں گے؟“
”لیکن انھوں نے صحیح لکھا، اس کا کیا ثبوت ہے؟ کیا وہ جنت یا دوزخ گئے تھے؟ پھر وہ اتنے ادھیکار سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہاں کیا ہوتا ہے؟“
اب تک خالہ امّی کھڑی ہوگئیں اور انھوں نے مسری کی ڈلی کے گال پر ایک زوردار طمانچہ مارا۔ اس کی یاد میں یہ پہلا تھپڑ تھا۔ سکتے میں آگئی۔ چپ تو ہوگئی، مگر اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس نے غلط کیا کہا تھا۔ عورتوں کے بیچ عورتوں کی بات کی تھی۔ ایک ہی گناہ کی سزا عورتوں کو زیادہ کیوں ملتی ہیں، کیوں ان کی ذرا ذرا سی غلطی کا حساب رکھا جاتا ہے اور کیوں مرنے کے بعد ان غلطیوں کی اتنی سخت سزا ملتی ہے، یہ سبھی عورتیں سمجھ لیتیں تو اچھا ہی ہوتا نہ؟

گھر لوٹ کر امی خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ وہ بھی اپنا کمرہ صاف کرنے میں لگ گئی۔ ہائی اسکول کی کتابوں کا الگ ڈھیر بنا دیا تاکہ اگلے مہینے ریزلٹ آنے کے بعد گیارھویں کی کتابوں کے لیے جگہ ہوجائے۔ اس کے پرچے اچھے ہوئے تھے، ریزلٹ بھی اچھا آنے کی امید تھی۔ صفائی کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سوچ رہی تھی کہ ابا کو کیسے راضی کرے کہ وہ اسے سائنس لینے دیں تاکہ وہ ڈاکٹر بن سکے۔ سائنس تو پرائیویٹ نہیں پڑھی جاسکتی۔ باقاعدہ سینئر سیکنڈری میں داخلہ لینے کے خیال سے ہی اس کے دل میں خوشی کی ترنگیں دوڑ جاتی تھیں۔ اپنی سوچ اور جھاڑ پونچھ میں وہ اتنی کھوئی تھی کہ پہلی بار جب ابا کی آواز اس کے کان میں پڑی تو وہ سمجھ ہی نہیں سکی کہ وہ کسے بلا رہے ہیں۔ پھر اسے اچانک یاد آیا کہ اسی کا تو نام نیلوفر ہے۔ پر آج تک تو ابا نے کبھی اسے اس نام سے نہیں بلایا تھا۔ وہ ننگے پاؤں باہر لپکی تو دیکھا ابا شیروانی اتار کر، آرام کرسی پر بیٹھے پان کھارہے ہیں۔ پاس کی میز پر پانی کا گلاس رکھا ہے۔ ایک پیڑھی پر اماں بھی بیٹھی ہیں اور ان کا اُترا ہوا چہرہ اور سرخ آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ رو رہی تھیں۔ مطلب، ابا کو آئے دیر ہوئی۔
’ارے ابا، آپ کب آئے؟ مجھے بلایا ……“ وہ کہہ ہی رہی تھی کہ ابا نے ہاتھ اٹھاکر اسے چپ کیا۔
”آج میلاد میں کیا ہوا؟“ انھو ں نے پوچھا۔
”جی کچھ بھی تو نہیں،“ اس نے گھبرا کر پیڑھی پر سبکتی امی کی طرف دیکھا۔
”اُدھر کیا دیکھ رہی ہو! بتاؤ۔“
”ابا سچ مچ کچھ نہیں ہوا ……“ وہ گڑگڑانے لگی۔
”کچھ نہیں ہوا؟ سارا ٹونک جس کی چرچا کررہا ہے، جتنے منھ اتنی بات۔ شرم کے مارے ہم سر نہیں اُٹھا سکتے۔ آج کے بعد گدّی پر کیسے بیٹھیں گے، کیسے لین دین کریں گے، اور تم کہتی ہو کچھ نہیں ہوا؟“

مسری کی ڈلی سکتے میں آگئی۔ اپنے ڈر کو دباکر، آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں کو روک کر اس نے ہمت کرکے کہا، ”ابا آپ تو کہتے ہیں حویلی کی ایک بات بھی باہر نہیں جاتی۔ ہر اچھی بری گھٹنا پر پردہ پڑا رہتا ہے۔ یہ کیسا پردہ ہوا کہ گھر کے زنانے کی بات، باہر چوک پر اچھالی جارہی ہے؟“
اس کے ابا کا منھ پہلے حیرانی سے پیلا پڑگیا، پھر غصے سے تمتما گیا، ”تو یہ خبر سچ ہے۔ تمہاری زبان اتنی لمبی ہوگئی ہے کہ تم نے سوال کرنے شروع کردیے؟“
”جی، نہیں تو!“
”جھوٹ! کیا آج میلاد میں تم نے سوال نہیں پوچھا؟“
”جی وہ تو یہ جاننے کے لیے ……“

”لڑکیوں، عورتوں کا سوال پوچھنا غلط ہے۔ کیا یہ بات ہم نے تمھیں بچپن سے نہیں سکھائی؟ کیا تمھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ عورت کو اللہ نے مرد کی خوشی کے لیے بنایا ہے۔ عورت کا پہلا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یاد رکھے۔ اس کی اپنی پسند ناپسند نہیں، اپنی کوئی رائے نہیں، اپنا کوئی سوال نہیں، اپنا کوئی وجود نہیں۔ اور تم نے دینیات پر اعتراض کرنے کی ہمت کی۔ اپنے نانا کے لکھے میلاد پر اعتراض کیا؟ زبان درازی کی۔ ہمیں نہیں معلوم تھا ہم اپنے ہی گھر میں ایک ناگن کو پال رہے ہیں جو ایک دن ہمیں ہی ڈس لے گی۔ جانتی ہو اولاد کے اس طرح سے اللہ کی شان میں کچھ کہنے کی سزا ماں باپ پر آتی ہے۔ جاؤ، دفع ہو ہماری نظروں کے سامنے سے۔ اب کبھی ہمیں اپنا منھ دکھا کر گنہگار نہ کرنا!“

مسری کی ڈلی روتی ہوئی اندر بھاگ گئی تھی۔ نہیں، مسری کی ڈلی نہیں! اس دن سے تو سب اسے نیلوفر ہی کہتے تھے اور یہاں تو کوئی جانتا بھی نہیں تھا کہ اس کا پیار کا نام کبھی مسری کی ڈلی بھی تھا۔ یہاں، جہاں اس گھٹنا کے نو دن بعد اس کا نکاح کردیا گیا تھا۔ یہاں، جہاں عورتوں کو قرآن شریف اور دوسری مذہبی کتابوں کے علاوہ کوئی کتاب پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہاں، جہاں مرد اور عورتیں، الگ الگ کمروں میں، الگ الگ دسترخوانوں پر بیٹھتے اور کھاتے تھے۔ جہاں عورتوں کو ہنسنا، بات کرنا بھی گلا دباکر کرنا پڑتا تھا، کیونکہ اس گھر میں آواز کا بھی پردہ تھا۔ یہاں، جہاں کے ایک مرد کی وہ بیوی تو تھی، اس کے ساتھ رات کو ہم بستر بھی ہوتی تھی، لیکن جس سے نہ ہنس بول سکتی تھی، نہ جسے اپنے دل کا دُکھ بتا سکتی تھی۔ یہاں، جہاں کسی عورت کو پیار کے نام سے نہیں بلایا جاتا تھا۔
منالی کی ٹھنڈ میں تیزی آچلی تھی۔ اندر کمرے میں ہیٹر جل رہا تھا۔ وہ چاروں، ڈبل بیڈ پر رضائی میں دُبکے، بیچ میں بھونی مونگ پھلی اور تِل کی گجک، پاس کے اسٹول پر چائے کا تھرمس رکھے چپ تھیں۔ باہر اندھیرا بھی تھا اور کوہرا بھی اتر آیا تھا، جس کی دھندھ میں باہر کھڑکی سے دِکھنے والے، گرم کپڑوں میں لپٹے ہوئے لوگ کالے کالے ریچھ یا گوریلے جیسے لگ رہے تھے۔ چاروں خاموش تھیں۔ جتنا کہنا تھا، وہ کہہ چکی تھیں۔ شوہروں کی باری باری سے تعریف اور پھر برائی۔ دل کا غبار بھی نکل گیا اور ضرورت سے زیادہ بے پردگی بھی نہیں ہوئی۔ سسرال والوں کے قصوں سے بھی نمٹ لی تھیں۔ دو نے اپنے لیکھ، سمینار کے آج کے ستر میں پڑھ دیے تھے۔ دو کو کل پڑھنے تھے۔

دلّی کی چوبیس گھنٹے کی دوڑ سے، کھانے کو دیکھو، میاں کو برتو، بچوں سے نمٹو، گھر سلیقے سے رکھو، کیونکہ کوئی آئے جائے تو گھر کی عورت کے ہی سر الزام جائے، بیوٹیشین کے یہاں برابری سے جاؤ تاکہ ملنے جلنے میں خوبصورت لگو، نوکری کرکے، گھر کے خرچ میں ہاتھ بھی بٹاؤ اور اس سب تاناتنی کے بیچ کچھ وقت اپنی دماغی صلاحیت کو بھی بڑھاؤ، کچھ لکھو، کچھ پڑھو، کچھ سوچو۔ ویسے یہ سب نہ بھی کرو تو کوئی بُرا نہیں ہے۔ اسے تو تم اپنے لیے کرنا چاہتی ہو لہٰذا تمہارے آس پاس کے لوگوں پر یہ زبردستی نہیں کہ وہ یہ سب کرنے میں تمہاری مدد کریں۔ بلکہ تم جب کسی طرح، دوڑتے بھاگتے باقی سارے کام نمٹاؤگی اور کچھ پل اپنے کام کے لیے بچاکر، ان لمحوں کو جینے کی کوشش کروگی تو وہی جو تمہارے اپنے ہیں ان پلوں پر بھی چھینا جھپٹی شروع کردیں گے۔ وہ تم پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے، جیسے تم یہ پل بچاکر ان پر زیادتی کررہی ہو۔

چاروں ہی جانتی تھیں کہ جو لیکھ وہ لکھ کر لائی ہیں، وہ ادھ کچرے ہیں۔ ان میں نہ ڈھنگ کی ریسرچ ہے، نہ خیالوں کی پکڑ، نہ عمدہ زبان کی کشش اور جس ہستی پر یہ سمینار مرکوز تھا، نہ اس کی شخصیت اور کام کا صحیح جائزہ ہو۔ چاروں یہ بھی جانتی تھیں کہ انھیں اس لیے بلایا گیا ہے کیونکہ وہ خواتین ہیں اور یہ سمینار ایک نامی مصنفہ کا صدسالہ جشن میں ہورہا ہے۔ ورنہ تو بھلا اتنے لیکھیکاؤں کو ایک ہی سمینار میں بلایا جاتا ہے؟ وہ تو ایک آدھ کو بلا لیا کہ ڈائس پر صرف ٹھس، کھپّٹ مردوؤں کہ بساط نہ بیٹھے، ذرا رونق بھی رہے۔ اسی لیے شاید چاروں ایک دوسرے کی ضرورت سے زیادہ تعریف کررہی تھیں اور تعریف کی شکل میں دلاسہ دے کر ایک دوسرے کو ڈھاڑھس بندھا رہی تھیں۔

چاروں کے ہی دلوں میں اس بیباکی سے جینے کی تمنا تھی، جس سے وہ لیکھیکا جی تھی، جس کی صدسالہ سالگرہ منائی جارہی تھی۔ سماج کی بیڑیاں کاٹ کر، دھرم کے بنائے ہوئے دائروں کو توڑ کر، ریتی رواج کی جکڑن سے آزاد، بھلا کون نہیں جینا چاہتا۔ لیکن ایسا نہ کر پانے کی مجبوری کو ڈھانپا کیسے جائے؟ خود کو آزاد خیال اور ’فارورڈ‘ کیسے دکھایا جائے؟ یہی طریقہ سب سے اچھا تھا کہ جو ایک ایسا کرپائی تھی، اس کی تعریفوں کے پل باندھے جائیں، اس کی ہمت کی داد دی جائے اور بار بار اسی کی مثال پیش کی جائے۔ ایسا کرنے سے، اپنے حالات میں کوئی بدلاؤ بھی نہیں لانا پڑتا، کوئی بڑا قدم بھی نہیں اُٹھانا پڑتا اور تبدیلی کی طرفداری کرنے کا، پریورتن کرنے کی خواہش رکھنے کی تعریف بھی ملتا رہتا ہے۔ کبھی کبھار مردوں کو کھلّم کھلّا گالی دے دینے کے موقع بھی مل جاتے ہیں، دل کی بھڑاس بھی نکل جاتی ہے اور اپنے گھر کے ماحول میں اُتھل پتھل بھی نہیں مچتی۔

یہ ساری باتیں نیلوفر کی سمجھ میں آتی تھیں۔ جو باتیں شروع شروع میں نہیں سمجھ پائی تھیں، وہ اب کئی سمیناروں، ورک شاپوں میں جاکر سمجھ میں آگئی تھی۔ اس کی سمجھ میں آگیا تھا کہ ادبی دنیا میں، نقاد یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں برائی کرنی چاہیے۔ ان کا تو بس یہی طریقہ ہے کہ اٹھایا قلم اور لگے کمیاں گنوانے! ذرا نہیں سوچتے کہ بیچاری نے کن مشکلوں میں لکھا ہے۔ اور سچ پوچھئے تو ادب کے معاملے میں بھی مردوں کا ہی دبدبہ ہے۔ وہ لیکھیکا کو اسی وقت تک بڑھاوا دیں گے، جب تک کہ وہ ان کی ہاں میں ہاں ملاتی رہے۔ کسی لیکھک سنگھٹن میں عہدوں کی بات ہو، کسی سمینار میں پرچے پڑھنے کی یا کسی ڈیلی گیشن کی، مرد پوری طرح سے حاوی رہتے ہیں! فیصلے سب مرد لیتے ہیں۔
جب کسی لیکھیکا پر سمینار ہو تب مجبوراً عورتوں کو بلانا ہی پڑتا ہے۔ لیکن ایسے سمینار ہوتے ہی کتنے ہیں اور زیادہ سرکاری ہی ہوتے ہیں۔ ان میں پیسے بھی اچھے ملتے ہیں، دیکھ بھال بھی دل کھول کر ہوتی ہے۔ نیلوفر نے اسی سمینار پر نظر دوڑائی۔ ہوائی جہاز کا کرایہ، آرام دہ ٹیکسیاں، سرکاری گیسٹ ہاؤس، عمدہ کھانا۔ اسی لیے اس طرح کے سمینار کے لیے لائن بھی لمبی لگتی ہے اور اس میں سے خود کا چناؤ کروانے کے لیے ان مردوں کو خوش تو کرنا ہی پڑتا ہے، جو انتخاب کمیٹی پر ہوں۔

نیلوفر کو پتہ تھا کہ شیخ صاحب اور رگھوویر جی اگر کمیٹی پر نہ ہوتے اور پروفیسر شمیم کی دونوں سے اتنی اچھے تعلقات نہ ہوتے، تو اسے کوئی تھوڑی ہی بلاتا۔ اتنے بڑے سمینار کے لیے بہار کے ایک انام سے ضلع کی مہیلا کالج کی لیکچرر کو کون پتّا دیتا۔ کتنے پاپڑ بیل کر اس نے اپنی پڑھائی پوری کی تھی۔ وہ تو اچھا ہوا جو اس کے شوہر ہندی فلموں کے اتنے شوقین نکلے۔ پہلے تو اس کو راجستھان کے پچھڑے ہوئے قصبے سے، بہار لے آئے۔ دونوں اکیلے رہنے لگے تو انھوں نے ہی پردہ چھڑوا دیا۔ پھر بڑی خوشامدوں کے بعد اسے آگے پڑھنے کی اجازت بھی دے دی۔ ڈاکٹر کا سپنا بھلا کر اس نے اردو ادب پڑھنا شروع کردیا۔ ایم اے کے فوراً بعد ہی اس کی ملاقات پروفیسر شمیم سے ہوئی تھی۔ بیس سال اس سے بڑے تھے اور ہر وقت اسے گھورے جارہے تھے۔ پھر، جب بھی اکیلا پاتے اس سے بتیانے لگتے۔ انھوں نے جب نیلوفر کو سمجھایا کہ ان کا دل اس پر آگیا ہے تو کچھ پل تو اس کا ایسا جی چاہا تھا کہ ان کے منھ پر کھینچ کر طمانچہ رسید کرے۔ پھر جب انھوں نے اگلے ہی پل اپنی بیوی اور بچوں کی باتیں شروع کردی تھیں تو اسے ان سے گھن سی آنے لگی تھی۔ لیکن پھر دو چار بار کے بعد سب ٹھیک ہوگیا تھا اور اس نے بھی مان لیا تھا کہ کچھ پانے کا کچھ دام تو چکانا ہی پڑے گا۔ شمیم سیکڑوں کمیٹیوں پر تھے اور اس کے پاس دینے کے لیے اور بھلا تھا ہی کیا۔

ویسے پروفیسر شمیم بھی حد کرتے تھے۔ ذرا تو انسان کو لحاظ کرنا چاہیے۔ مانا کہ ڈھائی مہینے سے ملاقات نہیں ہوپائی تھی اور دو سمیناروں میں اس نے جانے سے انکار بھی کردیا تھا، جس پر وہ بہت بگڑے بھی تھے۔ لیکن انھیں بھی تو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنے دیور کی سگائی اور پھر شادی میں مصروف تھی۔ یہ کیا کہ کمرے میں گھسی نہیں کہ پیچھے پیچھے آ دھمکے اور فوراً ہی اندر سے کمرہ بند کرلیا۔ جانتے ہیں کہ ایک کمرے میں دو دو لیکھکوں کو ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ وہ دوسری لیکھیکا چائے پی کر کافی دیر بعد آئی۔ مگر اس سے کیا ہوتا ہے؟ جب دروازہ اندر سے بند ملا ہوگا اور ان کے کھٹکھٹانے کے پانچ منٹ بعد پروفیسر شمیم نے یہ کہتے ہوئے کھولا تھا کہ نیلوفر کی طبیعت خراب ہے اور وہ اس کی تیمارداری کررہے تھے اور خود بھی گلے تک کمبل اوڑھے ہی لیتی رہی تھی، تب کون ایسا اُلّو ہوگا جو سچ نہ بھانپ جائے۔

ویسے یہ طبیعت خرابی کا ناٹک اس نے دلی ہوائی اڈے سے ہی شروع کردیا تھا۔ اسی لیے اس نے فلائٹ پر کچھ کھایا نہیں اور بھُنتر پہنچتے اسے خود بھی لگنے لگا کہ اس کی طبیعت واقعی خراب ہورہی ہے۔ بھُنتر سے منالی تک کا ٹیکسی کا سفر، پہاڑی راستہ، سر گھومنے لگا اور متلی آنے لگی۔ منالی گیسٹ ہاؤس پہنچ کر اس کا بالکل جی نہیں چاہ رہا تھا کہ کسی سے بات بھی کرے۔ لیکن کرتی کیا؟ پروفیسر شمیم نے اس کے کہانی کے مجموعہ کی کتنے اچھے تبصرے اور تنقید کروائی تھیں۔ بہار کی ساری لیکھیکائیں جل بھن کر مورنڈا ہوگئی تھیں۔ پہلی کتاب اور اس کی ہی اتنی چرچا؟ اب اس کا ناول تیار تھا۔ وہ چاہتی تھی اس کا اجرا بھی ہو اور ساتھ ہی اس کی اسٹائل پر بولنے کے لیے دو تین بڑے نقاد بھی پدھاریں۔ ظاہر ہے کہ یہ سب پروفیسر شمیم کی مدد کے بِنا تو نہیں ہوسکتا تھا۔
وہ ابوجھ تو نہیں تھی۔ ایسے ہی تھوڑے اس نے اپنے شوہر کو بس میں کیا تھا۔ انھیں یقین دلایا تھا کہ اس طرح کے سمیناروں میں آنا، ادیبوں کے ساتھ کھل کر اٹھنا بیٹھنا، ہنسنا بولنا، اس کے کام کے لیے ضروری تھا۔ ویسے ذرا بیوقوف سے تھے اس کے شوہر۔ جب پروفیسر شمیم سے ملے تو ذرا اُکھڑے اُکھڑے سے تھے، لیکن پروفیسر شمیم نے اسے بھابھی کیا کہہ دیا کہ خوش ہوگئے اور جب انھیں یہ پتہ چلا کہ پروفیسر شمیم شراب کو ہاتھ نہیں لگاتے تب تو نہال ہی ہوگئے۔ اب تو اگر پروفیسر شمیم کہیں آرہے ہوں تو اسے فوراً وہاں جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ اتنا تو وہ بھی سمجھتی تھی کہ یہ لین دین کا زمانہ ہے۔ اسی لیے اپنی پوری تنخواہ شوہر کے ہاتھ میں رکھ دیتی، ان کی پسند کا پہنتی، ان کی پسند کے بال کٹواتی، ان کی ہر خواہش پوری کرتی تاکہ باہر آزادی سے جی سکے۔ اسے نام چاہیے تھا، ادبی دنیا میں خود کو جمانے کے لیے بڑے نقادوں کے تبصرے، تعریف چاہیے تھی۔ جس گمنامی میں اسے پچیس سال پہلے دھکیل دیا گیا تھا، جس کی اندھیری کھائیوں میں وہ پچیس سال سے ہاتھ پیر مار رہی تھی، جس سے باہر آنے کی آخر ایک ڈور ہاتھ لگی تھی، وہ یہ ڈور کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی، چاہے اس کے لیے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔
باقی تینوں لیکھیکاؤں کی آنکھوں کی گہرائی کی سب سے آخری پرت میں ایک طنز کی چھایا تیر رہی تھی۔ وہ سب کچھ جانتی تھیں اور جانیں گی کیوں نہیں؟ جس راہ پر وہ چل رہی تھی اس پر تو اور بہت سی

لیکھیکاؤں کے پیروں کے نشان تھے! یہ جانتے ہوئے بھی کہ چاروں ہی ایک ہی کشتی کی سوار ہیں، کیوں اچانک اس کے سینے میں ہول اٹھنے لگتا تھا۔ یہ دل لرزانے والا ڈر اس کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتا۔ کیوں اس کی آنکھوں کے سامنے جہنم کی وہ بچپن میں دکھائی گئی تصویریں ناچنے لگتی تھیں۔ وہ جانتی تھی — وہ سب کچھ من گڑھت تھا، پھر بھی ایک برفیلی مٹھی کیوں اس کے دل کو نچوڑ کر، اس کی جان نکال لینے کو کستی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ کیوں وہ راتوں کو چونک کر جاگ جاتی تھی، کیوں اسے خواب میں شیطان نظر آتا تھا جس کی شکل کبھی اس کے باپ سی، کبھی اس کے سسر سی اور آج کل پروفیسر شمیم جیسی لگتی تھی۔
یہ سب سوچ کر اس کی آنکھوں میں کچھ گڑنے لگا۔ جلدی میں کچھ نہ سوجھا تو آنسوؤں کے بہہ نکلنے سے پہلے، اس نے اپنی ساس کی تعریفیں شروع کردیں۔ ان ساس کی جنھیں اس نے ’بیسٹ مدر اِن لا‘ کا پرسکار دلوایا تھا۔ اور اسی بہانے، اچھی ساس کو یاد کرکے اس نے رونا شروع کردیا۔ دوسری لیکھیکائیں اسے چپ کرانے کی کوشش کرنے لگیں اور اچانک یوں پھوٹ پھوٹ کر، پانچ سال پہلے مری ہوئی ساس کو یاد کرکے رونے کا کارن پوچھنے لگیں۔ سُبکتے ہوئے اس کے منھ سے نکل گیا کہ وہ تو بہت بڑی گنہگار ہے۔ آخر خدا نے اسے ایسے اچھے ساس، سسر اور شوہر کیوں بخشے؟ کیوں اللہ اس پر اتنا مہربان ہے؟

اب دوسری لیکھیکاؤں کے فکرمند ہوجانے کی باری تھی۔ جس سچ پر پردہ پڑا تھا اسے جاننا سمجھنا مگر چپ رہنا، ایک بات تھی۔ لیکن اپنے ہی منھ سے خود کو گنہگار کہنا تو ضرورت سے زیادہ صفائی کی طرف بڑھنا تھا، جس میں ان سب کے راز فاش ہوجانے کا بھی ڈر تھا۔ ایک تو گھبراکر اسے ڈانٹنے ڈپٹنے لگی کہ بھلا اس میں اللہ پر سوال کرنے کی کیا ضرورت ہے، اسے تو خدا کا شکر کرنا چاہیے۔ ایک مذاق کرکے، اسے ہنساکر ماحول کو ہلکا کرنے کی کوشش کرنے لگی اور تیسری، جو عمر میں ان تینوں سے ذرا بڑی تھی، اٹھ کر اپنے سوٹ کیس سے ایک ڈبیہ نکال لائی۔
ڈبیہ کھول کر نیلوفر کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی، ”لو، مسری کی ایک ڈلی منھ میں رکھ لو، مٹھاس منھ میں گھلے گی تو ذائقہ بدلے گا، طبیعت بھی بہل جائے گی، مزاج بھی بدل جائے گا اور ماحول بھی ہلکا ہوجائے گا۔“
نیلوفر نے ہاتھ بڑھاکر ایک چھوٹا سا مسری کا ٹکڑا اٹھا لیا، ہونٹوں تک لے جاکر اسے منھ میں رکھنے کا ناٹک کیا اور بڑی صفائی سے اسے ساڑی اور بلاؤز کے بیچ میں گرا دیا۔ وہ اور کرتی بھی کیا؟ وہ یہ تو کہہ نہیں سکتی تھی کہ وقت نے برسوں پہلے اس کے منھ سے مسری کی ڈلی اگلوا لی تھی۔ اب تو جب بھی وہ زندگی کی مسری منھ میں دیتی تھی اسے وہ کریلے، نیم، چریتے اور کونین سے بھی زیادہ کڑوی لگتی تھی۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے