کبوتر

کبوتر

کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔ یہ آبادیوں‌میں، جنگلوں‌میں، مولوی اسمعیل مرٹھی کی کتاب میں غرض‌یہ کہ ہر جگہ پایا جاتاہے۔ کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔1۔ نیلے کبوتر۔ 2 سفید کبوتر۔ نیلے کبوتر کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ سفید کبوتر بالعموم سفید ہی ہوتا ہے۔ کبوتروں نے تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ شہزادہ سلیم نے مسماۃ مہرالنساء کو جب کہ وہ ابھی بےبی نورجہاں تھیں، کبوتر ہی پکڑایا تھا جو اس نے اڑا دیا اور پھر ہندوستان کی ملکہ بن گئی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے میں زیادہ فائدے میں کون رہا؟ شہزادہ سلیم‌؟ نورجہاں؟یا وہ کبوتر؟‌رعایا کا فائدہ ان دنوں کبھی معرض بحث میں نہ آتا تھا۔ پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہی استعمال کرتے تھے۔ اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔ بعد میں آدمیوں کو قاصد بنا کر بھیجنے کا رواج ہو تو بعض اوقات یہ نتیجہ نکلا کہ مکتوب الیہ یعنی محبوب قاصد سے ہی شادی کر کے بقیہ عمر ہنسی خوشی گزار دیتا۔ چند سال ہوئے ہمارے ملک کی حزب مخالف نے ایک صاحب کو الٹی میٹم دے کر والئی ملک کے پاس بھیجاتھا۔ الٹی میٹم تو راستے میں کہیں رہ گیا۔ دوسرے روز ان صاحب کے وزیر بننے کی خبر اخباروں میں آگئی۔ طوطے کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا جاتا تو یہ صورت حال پیش نہ آتی۔
پیاسا کوا
ایک پیاسے کوے کو ایک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آیا۔ بہت خوش ہوا۔ لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ پانی بہت نیچے فقط مٹکے کی تہہ میں تھوڑا سا ہے۔ سوال یہ تھا کہ پانی کو کیسے اوپر لایا جائے اور اپنی چونچ تر کی جا سکے۔
اتفاق سے اس نے حکایات لقمان پڑھ رکھی تھی۔ پاس بہت سارے کنکر پڑے تھے۔ اس نے اٹھا کر ایک ایک کنکر اس میں ڈالنا شروع کیا۔ کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئی۔ پیاسا تو تھا ھی، نڈھال بھی ہو گیا۔ مٹکے کے اندر نگاہ ڈالی تو کیا دیکھتا ہے کہ کنکر ہی کنکر ہیں۔ سارا پانی کنکروں نے پی لیا ہے۔ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کی۔پھر بے سدھ ہو کر زمین پر گر گیا اور مر گیا۔ اگر وہ کوا کہیں سے ایک نلکی لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بیٹھا بیٹھا پانی کو چوس لیتا۔ اپنے دل کی مراد پاتا۔ ہرگز جان سے نہ جاتا۔
اکبر
آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ھوگا۔ راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ھوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوائے، مونچھیں ترشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں۔ اور کام بھی کرتا تھا۔
اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا اور تاج و تخت اسے مل گیا۔ ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے۔ ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا۔ ولی عہد لوگ جونہی باپ کو عمر کی معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تو اسے قتل کرکے،یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کر کے تخت حکومت پر جلوہ افروز ہو جایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔
بابر
بابر شاہ سمر قند سے ہندوستان آیا تاکہ یہاں خاندان مغلیہ کی بنیاد ڈال سکے۔ یہ کام تو وہ بخوبی اپنے وطن میں بھی کر سکتا تھا، البتہ پانی پت کی پہلی لڑائی میں اس کی موجودگی ضروری تھی۔ یہ نہ ہوتا تو وہ لڑائی ایک طرفہ ہوتی۔ایک طرف ابراہیم لودھی ہوتا اور دوسری طرف کوئی بھی نہ ہوتا۔ لوگ اس لڑائی کا حال پڑھ پڑھ کر ہنسا کرتے۔
یہ بادشاہ تزک لکھتا تھا، ٹوٹے پھوٹے شعر بھی کہتاتھا، پیشین گوئیاں بھی کرتا تھا کہ عالم دوبارہ نیست اور دو آدمیوں کو بغل میں دبا کر دوڑ بھی لگایا کرتا تھا۔ ظاہر ہے اتنی مصروفیتوں میں امور مملکت کے لئے کتنا وقت نکل سکتا تھا، شراب بھی پیتا تھا، یاد رہے، اس زمانے کے لوگوں کو مذہبی احکام کا ایسا پاس نہ تھا، جیسا ھمیں ہے کہ محرم کے عشرہ کے دوران میں شراب کی دوکانیں بند رہتی ہیں۔ کسی کو پینی ہو تو گھر میں بیٹھ کر پئے۔ کابل کو بہت یاد کرتا تھا، وہیں دفن ہوا۔ اس زمانے میں کابل شہر اتنا گندہ نہیں ہوتا تھا جتنا آج کل ہے۔
سوالات:
1۔ بابر نے خاندانی مغلیہ کی بنیاد کیوں رکھی، خاندان تغلق یا خاندان موریہ کی کیوں‌نہیں؟
2۔ اگر پانی پت کی پہلی لڑائی میں بابر کے علاوہ ابراہیم لودھی بھی شریک نہ ہوتا تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟
بھارت
یہ بھارت ہے۔ گاندھی جی یہیں پیدا ہوئےتھے۔ لوگ ان کی بڑی عزت کرتے تھے۔ ان کو مہاتما کہتے تھے، چناچہ مار کر ان کو یہیں دفن کر دیا اور سمادھی بھی بنا دی۔ دوسرے ملکوں‌کے بڑے لوگ آتے ہیں تو اس پر پھول چڑھاتے ہیں۔ اگر گاندھی جی نہ مرتے، یعنی نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان میں عقیدت منددوں کے لئے پھول چڑھانے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ یہی مسئلہ ہمارے یعنی پاکستان والوں کے لئے بھی تھا۔ ہمیں قائد اعظم کا ممنون ہونا چاہئے کو خود ہی مر گئے اور سفارتی نمائندوں کے پھول چڑھانے کی ایک جگہ پیدا کر دی ورنہ ھمیں بھی ان کو مارنا پڑتا۔
بھارت بڑا امن پسند ملک ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ اکثر ہمسائیہ ملکوں کے ساتھ اس کے سیز فائر کے معاہدے ہو چکے ہیں۔ 1970 میں ھمارے ساتھ ہوا۔ اس سے پہلے چین کے ساتھ ھوا۔ بھارت کا مقدس جانور گائے ہے۔ بھارتی اس کا دودھ پیتے ہیں، اسی کے گوبر سے چوکا لیپتے ہیں، اور اس کو قصائی کے ہاتھ بیچتے ہیں، اس لیئے کیونکہ وہ خود گائے کو مارنا یا کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔
آدمی کو بھارت میں مقدس جانور نہیں مانا جاتا۔
بھارت کے بادشاہوں میں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہیں۔ اشوک سے ان کی لاٹ اور دہلی کا اشوک ہوٹل یادگار ہیں۔ اور نہرو جی کی یادگار مسئلہ کشمیر ہے۔ جو اشوک کی تمام یادگاروں سے زیادہ مضبوط اور پائیدار معلوم ہوتا ہے۔
راجہ نہرو بڑے دھرماتما آدمی تھے۔ صبح سویرے اٹھ کر شیر شک آسن کرتے تھے، یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے۔ رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا دیکھنے کی عادت ہو گئی تھی۔ حیدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعایا کے نقطہءنظر سےدیکھا اور کشمیر کو راجہ کے۔ یوگ میں طرح طرح کے آسن ہوتے ہیں، ناواقف لوگ ان کو قلابازیاں سمجھتے ہیں۔ نہرو جی نفاست پسند بھی تھے۔ دن میں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے۔
پاکستان
حدود اربعہ میں پاکستان کے مشرق میں سیٹو ہے، مغرب میں سنٹو، شمال میں تاشقند اور جنوب میں پانی، یعنی جائے مفر کسی طرف نہیں۔
پاکستان کے دو صوبے ہیں۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان۔ یہ ایک دوسرے سے بڑے فاصلے پر ہیں۔ اس کا اندازہ اب ہو رہا ہے۔
دونوں کااپنا اپنا حدود اربعہ بھی ہے۔
مغربی پاکستان کے شمال میں پنجاب، جنوب میں سندھ، مشرق میں ہندوستان اور مغرب میں سرحد اور بلوچستان ہیں۔ یہاں‌پاکستان خود کہا ں واقع ہے اور واقع ہے بھی کہ نہیں، اس پر آج کل ریسرچ ہو رہی ہے۔ مشرقی پاکستان کے چاروں طرف آج کل مشرقی پاکستان ہی ہے۔
دین الٰہی
دینیات کی طرف اکبر کا شغف دیکھتے ہوئے وزیر با تدبیر ابوالفضل نے اس کے ذاتی استعمال کے لیئے دین الٰہی ایجا کر دیا تھا، اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کے پہلے خلیفہ کی ذمہ داریاں خود سنبھال لی تھیں۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنا اس مذہب کا بنیادی اصول تھا، مرید اکبر کے گرد جمع ہوتے اور کہتے تھے کہ اے ظل الٰہی تو ایسا دانا و فرزانہ ہےکہ تجھ کو تاحیات سربراہ مملکت یعنی بادشاہ وغیرہ رہنا چاھئے۔ اس کے نام کا وظیفہ پڑھتے تھے اور اس کی تعریف میں وقت بے وقت بیانات جاری کرتے رہتے۔ پرستش کی ایسی رسمیں آج کل بھی رائج ہیں لیکن ان کو دین الٰہی نہیں کہتے۔
ایک دعا
یا اللہ
کھانے کو روٹی دے
پہننے کو کپڑا دے
رہنے کو مکان دے
عزت اور آسودگی کی زندگی دے
میاں یہ بھی کوئی مانگنے کی چیزیں ہیں؟
کچھ اور مانگا کر
بابا جی آپ کیا مانگتے ہیں؟
میں؟
میں یہ چیزیں‌نہیں مانگتا
میں تو کہتا ہوں
اللہ میاں مجھے ایمان دے
نیک عمل کرنے کی توفیق دے
بابا جی آپ ٹھیک مانگتے ہیں
انسان وہی چیز تو مانگتا ہے
جو اس کے پاس نہیں‌ہوتی
ہمارا ملک
ایران میں کون رہتا ہے؟
ایران میں ایرانی قوم رہتی ہے۔
انگلستان میں کون رہتا ہے؟
انگلستان میں انگریز قوم رہتی ہے۔
فرانس میں کون رہتا ہے؟
فرانس میں فرانسیسی قوم رہتی ہے۔
یہ کون سا ملک ہے؟
یہ پاکستان ہے۔
اس میں پاکستانی قوم رہتی ہوگی؟
نہیں اس میں پاکستانی قوم نہیں رہتی
اس میں سندھی قوم رہتی ہے
اس میں پنجابی قوم رہتی ہے
اس میں بنگالی قوم رہتی ہے۔
اس میں یہ قوم رہتی ہے
اس میں وہ قوم رہتی ہے
لیکں پنجابی تو ہندوستان میں‌بھی رہتے ہیں
سندھی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں
بنگالی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں
ُپھر یہ ملک الگ کیوں بنایا تھا؟
غلطی ہو گئی، معاف کر دیجئے، آئیندہ نہیں بنایئں گے۔
پانی پت
پانی پت میں اس وقت تک صرف ایک لڑائی ہوئی تھی۔ پانی پت والوں کا اصرار تھا کہ ایک اور ہونی چاہئے۔ چناچہ اکبر نے پہلی فرصت میں بہیرو بنگاہ کے ساتھ ادھر کا رخ‌کیا۔ ادھر سے ہیموں بقال لشکر جرار لے کر آیا۔ اس کے ساتھ توپیں بھی تھیں اور ہاتھی بھی۔ ایک سے ایک سفید گھوڑا، گھمسان کا رن پڑا۔ ہیموں کی جمعیت زیادہ تھی۔ لیکن اکبری لشکر نے تابڑ توڑ حملے کر کے کھلبلی مچا دی۔ بعض ہمدردوں نے اس کے جدی وطن سے پیغام بھجھوایا کہ تم اور ہیموں دونوں‌یہاں تاشقند آو، صلح کرا ئے دیتے ہیں۔ لیکن اکبر نہ مانا۔ ہیموں ایک ہاتھی کے ہودے میں بیٹھا روپے آنے پائی کا حساب لکھ رہا تھا کہ اس لڑائی کا مال غنیمت فروخت کر کے کس کاروبار میں لگایا جائے۔ ناگہاں ایک تیر قضا کا پیغام لے کر اس کی آنکھ میں آن لگا اور وہ بےسدھ ہوکر گر گیا۔ بقال کو ہم تاریخ کا پہلا موشے دایان کہ سکتے ہیں۔
ادب کی سرپرستی
انار کلی ایک کنیز تھی۔ جس کی وجہ سے شہزادہ سلیم کا اخلاق خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔ اکبر نے اسے دیوار میں چنوا دیا۔ ایک محلحت اس میں‌یہ بھی تھی کہ سید امتیاز علی تاج اپنا معرکۃ لارا ڈرامہ لکھ سکیں اور اردو ادب کے ذخیرے میں ایک قیمتی اضافہ ہو سکے۔ درباری شاعر نظیری نیشاپوری نے ایک بار کہا کہ میں نے لاکھ روپے کا ڈھیر کبھی نہیں دیکھا۔ بادشاہ نے ایک لاکھ روپے خزانے سے نکلوا کر ڈھیر لگوا دیا۔ جب نظیری اچھی طرح دیکھ چکا تو روپے واپس خزانے میں بھجوا دئے۔ نظیری دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا۔ اصل میں نظیری یہ حرکت خانخاناں کے ساتھ پہلے بھی کر چکا تھا۔ خانخاناں نے شاعر کی نیت بھانپ کر کہ دیا تھا کہ اچھا اب یہ ڈھیر تم اپنے گھر لے جاو۔ لیکن اکبر ایسا کچا آدمی نہیں تھا۔
اکبر کی حکمت عملی
اکبر میں تعصب بالکل نہ تھا۔ خصوصاًشادیوں کے معاملہ میں۔ کچھ ریاستیں فوجوں سے فتح کیں باقی راجاوں کی بیٹیوں کو اپنے حرم میں اور ان کے علاقوں‌کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ آج کل کے سیٹھ اور مل مالک جو ایسا کرتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔
برکات حکومت غیر انگلیشیہ
عزیزو بہت دن پہلے اس ملک میں انگریزوں کی حکومت ہوتی تھی اور درسی کتابوں میں ایک مضمون برکات حکومت انگلیشیہ کے عنوان سے شامل رہتا تھا۔ اب ہم آزاد ہیں۔ اس زمانے کے مصنف حکومت کی تعریف کیا کرتے تھےکیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ہم اپنے عہد کی آزادی اور قومی حکومتوں کی تعریف کریں گے۔ اس کی وجہ بھی ظاہر ہے۔
عزیزو انگریزوں نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں۔ لیکن ان کے زمانے میں خرابیاں بہت تھیں۔ کوئی حکومت کے خلاف بولتا تھا یا لکھتا تھا تو اس کو جیل بھیج دیتے تھے، اب نہیں بھیجتے۔ رشوت ستانی عام تھی، آج کل نہیں ہے۔ دوکاندار چیزیں مہنگی بیچتے اور ملاوٹ کرتے تھے، آج کل کوئی مہنگی چیزیں نہیں بیچتا، ملاوٹ بھی نہیں کرتا۔ انگریزوں کے زمانے میں امیر اور جاگیر دار عیش کرتے تھے، غریبوں کو کوئی پوچھتا نہیں تھا۔ اس اتنا پوچھتے ہیں کہ وہ تنگ آجاتے ہیں۔ خصوصاًحق رائے دہندگی بالغان کے بعدسے۔
تعلیم اور صنعت و حرفت کو لے لیجئے۔ ربع صدی کے مختصر عرصے میں ہماری شرح خواندگی اٹھارہ فیصد ہو گئی ہے۔ غیر ملکی حکومت کے زمانے میں ایسا ہو سکتا تھا؟
انگریز شروع شروع میں ہمارے دستکاروں کے انگوٹھے کاٹ دیتے تھے، اب کارخانوں کے مالک ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ دستکاروں کے انگوٹھے نہیں کاٹتے، ہاں کبھی کبھار پورے دستکار کو کاٹ دیتے ہیں۔ آزادی سے پہلے ہندو بنئیے اور سرمایہ دار ہمیں لوٹا کرتے تھے، ہماری خواہش تھی کہ یہ سلسلہ ختم ہو اور ہمیں مسلمان بنئیےاور سیٹھ لوٹیں۔ الحمد للہ کہ ہماری یہ آرزو پوری ہوئی۔ جب سے حکومت ہمارے ہاتھ آئی، ہم نے خاصی ترقی کی ہے۔ خاص برآمدات دو ہیں، وفود اور زر مبادلہ۔ درآمدات ہم گٹھاتے جا رہے ہیں۔ ایک زمانے میں تو خارجہ پالیسی تک باہر سے درآمد کرتے تھے۔ اب یہاں بننے لگی ہے۔
خانخاناں
خانخاناں کا خطاب ذوالفقار الدولہ تھا۔ اکبر کا سب سے کم عمر وزیر تھا۔ ذہین اور خوش تقریر۔ اکبر اسے بہت عزیز رکھنے لگا اور باہرکی ولائیتوں سے ہر طرح کے معاملت اس کے سپرد کر رکھی تھی۔ ٹوڈرمل کو یہ بات پسند نہ آئی کیونکہ خانخاناں کا میلان مہاراجہ سام گڑھ کی بجائے فغفور چین کی طرف زیادہ تھا۔ آخر نورتنوں کے حلقے سے نکلوا کر دم لیا۔ کہتے ہیں کہ پانی پت کی دوسری لڑائی کے سلسلے میں بھی بادشاہ سے خانخاناں کے اختلافات ہو گئے تھے۔ اکبر ہیموں بقال سے صلح پر آمادہ تھا، خانخاناں اس کا مخالف تھا۔ خانخاناں کو یہ بھی پسند نہ تھا کہ امراء بڑی بڑی جاگیروں پر قابض ہوں، یا علماء جائیداد بنائیں، اس لئے دربار کے علماء اس سے ناراض ہو گئے تھے اور اس کے عقائد میں نقص نکالنے لگے تھے۔
خانخاناں نے بددل ہو کر پرچم بغاوت بلند کیا تو لاکھوں لوگ اس سے آن ملے۔ زیادہ تر عام طبقے کے آدمی تھے۔ خانخاناں اپنا دربار پیپل کے ایک درخت کے نیچے لگاتا تھا۔ اس لئے اس کے حامی بھی پیپل والے مشہور ہوئے۔
رامائن
رامائن رامچندر جی کی کہانی ہے۔ یہ راجہ وسرتھ کے پرنس آف ویلز تھے، لیکن ان کی سوتیلی ماں کیکی اپنے بیٹے بھرت کو راجہ بنانا چاہتی تھی۔ اس کے بہکانے پر راجہ وسرتھ نے رامچندر جی کو چودہ برس کے لئے گھر سے نکال دیا۔ ان کی رانی سیتا کو بھی اور ان کے بھائی لچھمن بھی ساتھ ہو لیئے۔ بن باس کے لئے نکلتے وقت رامچندر جی کے پاس کچھ نہ تھا۔ بس ایک کھڑاواں تھی، وہ بھی بھرت نے رکھوا لی تھی کہ آپ کی نشانی ہمارے پاس رہنی چاہئے۔ اس کھڑاواں کو بھرت تخت کے پاس بلکہ اوپر رکھتا تھا کو رامچندر جی کا کوئی آدمی چرا کے نہ لے جائے۔
جنگل میں رہنے کی وجہ سے ان کو گزارے میں‌چنداں‌تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ رام جی تو آخر رام جی تھے، ان کا زیادہ کام لکشمن یعنی برادر خورد کیا کرتے تھے۔ یہ لوگ گن گن کر دن گزار رہے تھے کہ کب بارہ برس پورے ہوں اور کب یہ جا کر راج پاٹ سنبھالیں اور رعایا کی بے لوث خدمت کریں۔ ایک روز جب رام اور لکشمن دونوں شکار پر گئے ہوئے تھے کہ لنکا کا راجہ آیا اور سیتا جی کو اٹھا کر لے گیا۔ اس پر رامچندر جی اور راون میں لڑائی ہوئی۔ گھمسان کا رن پڑا جیسا کہ دسہرے کے تہوار پر پڑتا آپ نے دیکھا ہوگا۔ ہنومان جی اور ان کے بندروں نے رامچندر جی کا ساتھ دیا اور وہ راون اور اس کے راکھشسوں کو مار کر جیت گئے۔ پرانے خیال کے ہندو اسی لئے بندروں کی اتنی عزت کرتے ہیں، ان کو انسانوں پر ترجیح دیتے ہیں۔
فعل دیگر
فعل کی بنیادی قسمیں دو ہیں۔ جائز فعل اور ناجائز فعل۔ ہم صرف جائز فعل کے افعال سے بحث کریں‌گے۔ کیونکہ قسم دوئم پرآنجہانی پنڈت کوک اور جناب جوش ملیح آبادی مسوط کتابیں لکھ چکے ہیں۔
فعل کی دو قسمیں فعل لازم اور فعل متعدی بھی ہیں۔ فعل لازم وہ ہے جو کرنا لازم ہو، مثلا ًافسر کی خوشامد، حکومت سے ڈرنا، بیوی سے جھوٹ بولنا وغیرہ۔
فعل متعدی عموماًمتعدی امراض کی طرح پھیل جاتا ہے۔ ایک شخص کنبہ پروری کرتا ہے، دوسرے بھی کرتے ہیں۔ ایک رشوت لیتا ہے، دوسرے اس سے بڑھ کر لیتے ہیں۔ ایک بناسپتی گھی کا ڈبہ پچیس روپے کر دیتا ہے دوسرا گوشت کے ساڑھے بارہ روپے لگاتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ دونوں اپنے فعل متعدی کو فعل لازم قرار دیتے ہیں۔ ان افعال میں گھاٹے میں صرف مفعول رہتا ہے۔ یعنی عوام۔ فاعل کی شکایت کی جائے تو فائل دب جاتی ہے۔
فعل ماضی
ماضی میں کسی شخص نے جو فعل کیا ہو اسے فعل ماضی کہتے ہیں۔ کرنے والا عموماًبھولنے کی کوشش کرتا ہے لیکن لوگ نہیں بھولتے۔ ماضی کی کئی قسمیں مشہور ہیں۔ سب سےزیادہ شاندار ماضی ہے۔ جس قوم کو اپنا مستقبل ٹھیک نظر نہ آئے وہ اس صیغے کو بہت استعمال کرتی ہے۔
ایک ماضی شکیہ ہے۔ جن لوگوں کا ماضی مشکوک ہو وہ ماضی شکیہ کے ذیل میں آتے ہیں۔ عموماً ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے ہیں۔
ماضی شرطیہ یا ماضی تمنائی، جن لوگوں نے ریس میں یا تاش کے پتوں پر شرطیں بدل بدل کر اپنا ماضی تباہ کیا ہو، ان کے ماضی کو ماضی شرطی کہتے ہیں۔ چونکہ ان لوگوں کی تمنا ہوتی ہے کو اور پیسے آئیں تو ان کو بھی ریس میں لگائیں اور اس لئے شرطی اور تمنائی دونوں ماضیاں ساتھ ساتھ آتی ہیں۔
اس کی دو اور قسمیں ہیں۔ ماضی قریب اور ماضی بعید۔ ماضی کو حتی الوسیع قریب نہ آنے دینا چاہئے۔ جتنی بعید رہے گی اور جتنے اس پر پردے پڑے رہیں گے اتنی ہی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ ماضی کا بعید رہنا مستقبل کے لئے بھی اچھاہے۔
لفظ اور صیغے
پرانے زمانے میں تذکیر اور تانیث کے قاعدے مقرر تھے۔ قاعدہ یاد ہو تو لباس اور بالوں وغیرہ سے پہچان ہو جاتی ہے۔ اب مخاطب سے پوچھنا پڑتا ہے کو تو مذکر ہے یا مونث اور بتا تیرے رضا کیا ہے۔ اس کے بعد اس سے صحیح صیغے میں گفتگو کرتے ہیں یا ایران ہو تو اس کے ساتھ صیغہ کرتے ہیں۔
بہت سے واحد ایک جگہ جمع ہوں تو جمع کے صیغے میں آجاتے ہیں۔ جمع کے صیغے میں تھوڑی سی احتیاط ضروری ہے۔ خصوصاً جن دنوں شہر میں دفعہ 144 لگی ہو۔ ان دنوں میں جمع نہیں ہونا چاہئے، واحد رہنا ہی اچھاہے۔

ابن انشا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے